جینے کی اداکاری ہے ارمان نہیں ہے
تشبیہ ہے انسان کی انسان نہیں ہے
چرچا ہے بہت موت کا احباب اگرچہ
جینا بھی کٹھن کام ہے آسان نہیں ہے
اب آنکھ کو بہلائیں گے ہم اور ہنر سے
اب خواب کی تعبیر کا امکان نہیں ہے
جینے کی اداکاری ہے ارمان نہیں ہے
تشبیہ ہے انسان کی انسان نہیں ہے
چرچا ہے بہت موت کا احباب اگرچہ
جینا بھی کٹھن کام ہے آسان نہیں ہے
اب آنکھ کو بہلائیں گے ہم اور ہنر سے
اب خواب کی تعبیر کا امکان نہیں ہے
میرے جوان سرحدوں پہ شباب وار گئے
میرے بزرگ کھیت کی مٹی میں مل گئے
کسمپرسی چھپانے کے ہر جتن کے باوجود
چاند نکلا تو میرے سارے زخم کھل گئے
مٹی سے میری وفا کو نوکری نہ بولیے
چند نوالے میری حیات سے مہنگے نہیں ہیں
ایسے ہی میری آنکھ کو ازبر نہیں ہوا
اس جیسا دوسرا بھی میسر نہیں ہوا
وہ آدمی کے رُوپ میں آدم سے ماورا
میں یونہی اس کو دیکھ کے کافر نہیں ہوا
چاہے خفا خفا سا ہوں اپنی ہی ذات سے
لیکن میں تیری ذات کا مُنکر نہیں ہوا
حیرت کا اک جہان تھا کچھ دیر کے لیے
دو گز پہ آسمان تھا کچھ دیر کے لیے
پھر درد کی زبان پہ چھالے سے پڑ گئے
اک شخص مہربان تھا کچھ دیر کے لیے
دل کو عجیب ناز تھا قسمت کے حال پر
وہ مجھ کو پورا دان تھا کچھ دیر کے لیے
کچھ شرمسار چہرے ہیں پیشانیاں ہیں اب
لوگو! تمہارے بخت میں آسانیاں ہیں اب
اس حرص، اقتدار، سیاست کے کھیل میں
درکار میرے دیس کو قربانیاں ہیں اب
کتنے ستم اٹھاؤ گے مسند کے واسطے
مانا کہ اختیار میں من مانیاں ہیں اب
مشکل سے راس آئیں تھیں دو چار ساعتیں
پھر بخت سے گلے رہے دامن میں حسرتیں
وہ جو مِری بساط سے باہر نہیں گیا
ایسے سخی سے عشق میں کیسی قباحتیں
جب درد میرے ضبط کی حد سے گزر گیا
میرے عدو نے چھوڑ دیں ساری عداوتیں
پلکوں پہ بٹھا مجھ کو یا آنکھوں سے گرا دے
میں تیرا گنہ گار ہوں جو چاہے سزا دے
سہما ہوا رہتا ہے عجب خوف سے اب تو
اس دل کی پریشانی مجھے کوئی بتا دے
وہ آنکھ جو خوابوں کا چمن زار تھی پہلے
اب نیند سے بیزار ہے اک خواب نیا دے
سانس لیتا ہے خرابوں سے روا رکھتا ہے
درد ادراک کے لہجے کا مزا رکھتا ہے
معجزے وقت کی مُٹھی میں دبے رہتے ہیں
وہ جو بے زار تھا اب شوقِ دوا رکھتا ہے
زندگی جھیل کے منظر کی عبارت لیکن
دل ہی بے زار ہے طوفان اٹھا رکھتا ہے
بُغض رکھتا نہیں دل میں نہ عداوت صاحب
میری پہچان محبت ہے،۔ محبت صاحب
اب تو دنیا کے جھمیلوں سے کنارا کر کے
عادتاً سوچتا رہتا ہوں اذیت صاحب
دل اسی موڑ پہ ٹھہرا ہے بچھڑ کر تم سے
دل نے مانی ہی نہیں کوئی نصیحت صاحب
کہیں کباڑ کی املاک میں پڑے ہوتے
تِرے بغیر تو ہم خاک میں پڑے ہوتے
تِرا ہُنر ابھی کندن سے آشنا ہی نہیں
نہیں تھے راکھ کہ ہم راکھ میں پڑے ہوتے
بجا ہے بخت کی تقسیم سے گِلہ اپنا
تِرے اسیر تو افلاک میں پڑے ہوتے
اک عارضی مفاد میں گھر بار بیچ کر
بیساکھیاں خرید لیں دستار بیچ کر
کچھ لوگ بے ضمیر ہیں نسلوں سے بے ضمیر
جو معتبر ہیں شہر میں کردار بیچ کر
اب جان امتحان کی مشکل میں آ چکی
اب جان کی امان ہے گفتار بیچ کر
رسم ضبط نافذ ہے پھر خدا کی دھرتی میں
بھیڑیوں کی آمد ہے فاختہ کی بستی میں
آنکھ کے جھپکنے میں قافلے لٹیں گے پھر
راہبر کے حلیۓ میں راہزن ہے مستی میں
جبر کی ہوائیں ہیں دھونس کی خزاؤں میں
مال کی ہوس آخر کھینچ لے گی پستی میں
اے محبت! مجھے ایسے ہی گورا کر لے
تیرے لائق نہ سہی پھر بھی گزارا کر لے
عشق بس کا نہیں لگتا تو تماشا نہ بنا
کام مشکل ہے تو چپ چاپ کنارا کر لے
تیرے آنسو مِری دولت، مِری ساری دنیا
اس شراکت میں منافع ہے خدارا کر لے