Showing posts with label علی ساحر. Show all posts
Showing posts with label علی ساحر. Show all posts

Wednesday, 5 April 2023

جینے کی اداکاری ہے ارمان نہیں ہے

 جینے کی اداکاری ہے ارمان نہیں ہے

تشبیہ ہے انسان کی انسان نہیں ہے 

چرچا ہے بہت موت کا احباب اگرچہ 

جینا بھی کٹھن کام ہے آسان نہیں ہے 

اب آنکھ کو بہلائیں گے ہم اور ہنر سے 

اب خواب کی تعبیر کا امکان نہیں ہے

Friday, 17 February 2023

میرے جوان سرحدوں پہ شباب وار گئے

 میرے جوان سرحدوں پہ شباب وار گئے

میرے بزرگ کھیت کی مٹی میں مل گئے

کسمپرسی چھپانے کے ہر جتن کے باوجود

چاند نکلا تو میرے سارے زخم کھل گئے

مٹی سے میری وفا کو نوکری نہ بولیے

چند نوالے میری حیات سے مہنگے نہیں ہیں

Sunday, 4 December 2022

ایسے ہی میری آنکھ کو ازبر نہیں ہوا

 ایسے ہی میری آنکھ کو ازبر نہیں ہوا

اس جیسا دوسرا بھی میسر نہیں ہوا

وہ آدمی کے رُوپ میں آدم سے ماورا 

میں یونہی اس کو دیکھ کے کافر نہیں ہوا

چاہے خفا خفا سا ہوں اپنی ہی ذات سے 

لیکن میں تیری ذات کا مُنکر نہیں ہوا

Monday, 31 October 2022

حیرت کا اک جہان تھا کچھ دیر کے لیے

 حیرت کا اک جہان تھا کچھ دیر کے لیے 

دو گز پہ آسمان تھا کچھ دیر کے لیے 

پھر درد کی زبان پہ چھالے سے پڑ گئے 

اک شخص مہربان تھا کچھ دیر کے لیے

دل کو عجیب ناز تھا قسمت کے حال پر 

وہ مجھ کو پورا دان تھا کچھ دیر کے لیے

Tuesday, 25 October 2022

کچھ شرمسار چہرے ہیں پیشانیاں ہیں اب

 کچھ شرمسار چہرے ہیں پیشانیاں ہیں اب

لوگو! تمہارے بخت میں آسانیاں ہیں اب

اس حرص، اقتدار، سیاست کے کھیل میں 

درکار میرے دیس کو قربانیاں ہیں اب

کتنے ستم اٹھاؤ گے مسند کے واسطے 

مانا کہ اختیار میں من مانیاں ہیں اب 

Friday, 14 October 2022

مشکل سے راس آئیں تھیں دو چار ساعتیں

 مشکل سے راس آئیں تھیں دو چار ساعتیں

پھر بخت سے گلے رہے دامن میں حسرتیں

وہ جو مِری بساط سے باہر نہیں گیا

ایسے سخی سے عشق میں کیسی قباحتیں

جب درد میرے ضبط کی حد سے گزر گیا

میرے عدو نے چھوڑ دیں ساری عداوتیں

Wednesday, 21 September 2022

پلکوں پہ بٹھا مجھ کو یا آنکھوں سے گرا دے

پلکوں پہ بٹھا مجھ کو یا آنکھوں سے گرا دے

میں تیرا گنہ گار ہوں جو چاہے سزا دے

سہما ہوا رہتا ہے عجب خوف سے اب تو

اس دل کی پریشانی مجھے کوئی بتا دے

وہ آنکھ جو خوابوں کا چمن زار تھی پہلے

اب نیند سے بیزار ہے اک خواب نیا دے

Wednesday, 7 September 2022

سانس لیتا ہے خرابوں سے روا رکھتا ہے

 سانس لیتا ہے خرابوں سے روا رکھتا ہے

درد ادراک کے لہجے کا مزا رکھتا ہے

معجزے وقت کی مُٹھی میں دبے رہتے ہیں

وہ جو بے زار تھا اب شوقِ دوا رکھتا ہے

زندگی جھیل کے منظر کی عبارت لیکن

دل ہی بے زار ہے طوفان اٹھا رکھتا ہے

Saturday, 20 August 2022

بغض رکھتا نہیں دل میں نہ عداوت صاحب

 بُغض رکھتا نہیں دل میں نہ عداوت صاحب 

میری پہچان محبت ہے،۔ محبت صاحب 

اب تو دنیا کے جھمیلوں سے کنارا کر کے 

عادتاً سوچتا رہتا ہوں اذیت صاحب

دل اسی موڑ پہ ٹھہرا ہے بچھڑ کر تم سے

دل نے مانی ہی نہیں کوئی نصیحت صاحب

Friday, 19 August 2022

کہیں کباڑ کی املاک میں پڑے ہوتے

 کہیں کباڑ کی املاک میں پڑے ہوتے

تِرے بغیر تو ہم خاک میں پڑے ہوتے

تِرا ہُنر ابھی کندن سے آشنا ہی نہیں

نہیں تھے راکھ کہ ہم راکھ میں پڑے ہوتے

بجا ہے بخت کی تقسیم سے گِلہ اپنا

تِرے اسیر تو افلاک میں پڑے ہوتے

Thursday, 30 June 2022

اک عارضی مفاد میں گھر بار بیچ کر

اک عارضی مفاد میں گھر بار بیچ کر 

بیساکھیاں خرید لیں دستار بیچ کر

کچھ لوگ بے ضمیر ہیں نسلوں سے بے ضمیر

جو معتبر ہیں شہر میں کردار بیچ کر

اب جان امتحان کی مشکل میں آ چکی 

 اب جان کی امان ہے گفتار بیچ کر

Sunday, 1 May 2022

رسم ضبط نافذ ہے پھر خدا کی دھرتی میں

رسم ضبط نافذ ہے پھر خدا کی دھرتی میں 

بھیڑیوں کی آمد ہے فاختہ کی بستی میں 

آنکھ کے جھپکنے میں قافلے لٹیں گے پھر 

راہبر کے حلیۓ میں راہزن ہے مستی میں 

جبر کی ہوائیں ہیں دھونس کی خزاؤں میں 

مال کی ہوس آخر کھینچ لے گی پستی میں 

Friday, 29 October 2021

اے محبت مجھے ایسے ہی گورا کر لے

 اے محبت! مجھے ایسے ہی گورا کر لے

تیرے لائق نہ سہی پھر بھی گزارا کر لے

عشق بس کا نہیں لگتا تو تماشا نہ بنا

کام مشکل ہے تو چپ چاپ کنارا کر لے

تیرے آنسو مِری دولت، مِری ساری دنیا

اس شراکت میں منافع ہے خدارا کر لے