Sunday, 4 December 2022

ایسے ہی میری آنکھ کو ازبر نہیں ہوا

 ایسے ہی میری آنکھ کو ازبر نہیں ہوا

اس جیسا دوسرا بھی میسر نہیں ہوا

وہ آدمی کے رُوپ میں آدم سے ماورا 

میں یونہی اس کو دیکھ کے کافر نہیں ہوا

چاہے خفا خفا سا ہوں اپنی ہی ذات سے 

لیکن میں تیری ذات کا مُنکر نہیں ہوا

پھر رات کی مُسافتیں آنکھوں کے روبرو 

کچھ اور رہ گیا ہے جو دن بھر نہیں ہوا؟

شاید مِرے وجود سے اُکتا گیا ہے اب 

اس بار وہ سکون بھی مل کر نہیں ہوا 

کچھ فیصلے بھی خوف کی مُٹھی میں قید تھے 

کچھ شوق کے نصیب میں رہبر نہیں ہوا 

شاید اسے حیات سے اُلفت نہیں رہی 

اس بار وہ مریض بھی جانبر نہیں ہوا 


علی ساحر

No comments:

Post a Comment