جلتے بجھتے ہوئے جگنو کی طرح آتا ہے
وہ مِرے خواب میں جادو کی طرح آتا ہے
برف جذبات کی ہو جاتی ہے پانی پانی
میرے نزدیک وہ جب لُو کی طرح آتا ہے
ہجر ماحول میں بھیگے ہوئے موسم کی مثال
اک تصور تِرے گیسو کی طرح آتا ہے
جب بھی تھکتا ہوں غموں سے تو سہارا دینے
کوئی سایہ تِرے بازو کی طرح آتا ہے
کس کی آمد سے مہک اٹھتا ہے میرا احساس
ذہن میں کون یہ خوشبو کی طرح آتا ہے
جانے یہ ذکر ہے کس کا کہ مِرے ہونٹوں پر
آپ کی طرح کبھی تُو کی طرح آتا ہے
روح تپ اٹھتی ہے سورج کی طرح اے شہباز
یاد کا جھونکا بھی اب لُو کی طرح آتا ہے
شہباز ندیم ضیائی
No comments:
Post a Comment