Showing posts with label قیصر عمران. Show all posts
Showing posts with label قیصر عمران. Show all posts

Tuesday, 31 March 2026

جواب دو تم کیا ہے کس نے تمہیں اشارہ سوال یہ ہے

 جواب دو تم کیا ہے کس نے تمہیں اشارہ سوال یہ ہے

کہ آج تک میں نے کیا بگارا صنم تمہارا سوال یہ ہے

قدم قدم پہ کھڑی تھی مصیبتوں میں یہ زیست تیری

خموش کیوں ہے نہیں ہے اس کو اگر سنوارا سوال یہ ہے

حضور تم کو بسایا دل میں چھپا کے رکھا زمانے بھر سے

مِری وفاؤں سے کیوں مِری جاں! کیا کنارا سوال یہ ہے

Thursday, 16 January 2025

ہم نے اس شہر میں آنا ہے چلے جانا ہے

 ہم نے اس شہر میں آنا ہے چلے جانا ہے

آپ کے دل کو چرانا ہے چلے جانا ہے

ہم بھی بیٹھے ہیں تِری راہ میں جانے والے

آپ کو اتنا بتانا ہے چلے جانا ہے

آنے والے تجھے معلوم نہیں ہے شاید

ایک وعدہ ہے نبھانا ہے چلے جانا ہے

Wednesday, 5 June 2024

دکھوں کا اک پہاڑ بھی دل میں سمویا ہے

 دکھوں کا اک پہاڑ بھی دل میں سمویا ہے

پھر بھی ہمارے جینے کو اِک سانس گویا ہے

کُنبہ کے سر پرستوں کو جنگیں عزیز ہوں 

ہم نے تمہاری جنگوں میں کِتنوں کو کھویا ہے

قائم رہے ہیں آپ اناؤں پہ اپنی بس

دن رات ہم نے اشکوں سے دامن بھگویا ہے

Tuesday, 4 June 2024

مفلس کا مال کھانے کو بدکار آ گئے

 صورت بنا کے ایسی کہ حقدار آ گئے

مفلِس کا مال کھانے کو بدکار آ گئے

میرے حسِین ملک پہ قابِض کی آڑ میں

سوچوں کہاں کہاں سے یاں اغیار آ گئے

ہاتھوں میں جن کے ہونی تھی تختی قلم دوات

صد حیف اُن کے ہاتھوں میں ہتھیار آ گئے