ہم آستانۂ پیرِ مغاں سے آتے ہیں
کہ لامکاں سے بھی اونچے مکاں سے آتے ہیں
ہماری جان فدا جس کے اک اشارے پر
ہم اپنی جان کے اس پاسباں سے آتے ہیں
میں تجھ پہ جان سے صدقے تصورِ جاناں
مِری لحد میں یہ جلوے کہاں سے آتے ہیں
یہ مے کا جام، یہ ساقی، تمام اے زاہد
خدا کے بھیجے نہیں تو کہاں سے آتے ہیں
مجھے مٹا کے فلک گردشوں سے کہتا ہے
جلانے والے یہ نالے کہاں سے آتے ہیں
عیاں ہے حیرتِ انوار دید چہرے سے
نہ جانے حجرتِ حیرت کہاں سے آتے ہیں
حیرت شاہ وارثی
No comments:
Post a Comment