Wednesday, 24 June 2026

یہ درد عشق شروعات میں مزا دے گا

 یہ دردِ عشق شروعات میں مزہ دے گا

پھر اس کے بعد یہ پاگل تجھے بنا دے گا

لگائے بیٹھے ہیں اُمید بے وفا سے ہم

وفا کا جام کبھی تو ہمیں پِلا دے گا

مِرا طبیب ہی جب مُبتلا ہے خود غم میں

مِرے مرض کی بھلا کیا مجھے دوا دے گا

کسی کے سامنے ہرگز نہ ہاتھ پھیلاؤ

خُدا نے رزق کا وعدہ کِیا، خُدا دے گا

تمام عُمر تھا جو مُبتلا گُناہوں میں

سُنا ہے شخص وہی اب ہمیں سزا دے گا

یقین خُود سے زیادہ تھا جس پہ مُجھ کو تقی

خبر نہیں تھی یہ مُجھ کو وہی دغا دے گا


تقی ککراوی

No comments:

Post a Comment