Monday, 8 June 2026

محفل میں اس کی جا کے میں خاموش ہو گیا

 محفل میں اس کی جا کے میں خاموش ہو گیا

جو سوچ کے گیا تھا فراموش ہو گیا

احسان زندگی کا اٹھاتا کہاں تلک

سر کٹ گیا تو میں بھی سبکدوش ہو گیا

پردہ تھا شرم کا یہ سیاہی گناہ کی

میں ظلمتِ گناہ میں روپوش ہو گیا

سمجھو کہ جیتے جی ہی وہ پہنچا ہے خلد میں

تیرے خیال سے جو ہم آغوش ہو گیا

اب ہم کو اس کی سمع خراشی سے ہے نجات

ناصح کو کہہ دیا؛ میں گراں گوش ہو گیا


خلیفہ عبدالحکیم

No comments:

Post a Comment