محفل میں اس کی جا کے میں خاموش ہو گیا
جو سوچ کے گیا تھا فراموش ہو گیا
احسان زندگی کا اٹھاتا کہاں تلک
سر کٹ گیا تو میں بھی سبکدوش ہو گیا
پردہ تھا شرم کا یہ سیاہی گناہ کی
میں ظلمتِ گناہ میں روپوش ہو گیا
سمجھو کہ جیتے جی ہی وہ پہنچا ہے خلد میں
تیرے خیال سے جو ہم آغوش ہو گیا
اب ہم کو اس کی سمع خراشی سے ہے نجات
ناصح کو کہہ دیا؛ میں گراں گوش ہو گیا
خلیفہ عبدالحکیم
No comments:
Post a Comment