زندگی غم شناس تھی ہی نہیں
تم جو تھے کوئی پیاس تھی ہی نہیں
صرف رنگینیاں تھیں چاروں طرف
شام کوئی اُداس تھی ہی نہیں
اِک عجب بے حِسی کا عالم تھا
کوئی جینے کی آس تھی ہی نہیں
تیرے ہوتے غموں کی یہ بدلی
اس حویلی کے پاس تھی ہی نہیں
سچ یہی ہے تمہارے ہوتے ہوئے
زندگی یوں اُداس تھی ہی نہیں
پھر دُعائیں قبول کیا ہوتیں
جب کہ دل میں سِپاس تھی ہی نہیں
میں صفائی بھی اس کو کیا دیتا
میرے دل میں کھٹاس تھی ہی نہیں
میں بھی اُس ذات سے مخاطب تھا
جو مِرے آس پاس تھی ہی نہیں
جاوید قسیم
محمد جاوید قریشی
No comments:
Post a Comment