Friday, 26 June 2026

زندگی تو اتنی بے رحم تو نہ تھی

 زندگی

زندگی

تُو اتنی بے رحم تو نہ تھی

جب میں نومولود تھی

جب پیر کے تلووں کو

زمین پہ رکھنا

اور رکھ کر سنبھلنا سیکھا تھا

تیری بے رحمی کا اندازہ 

مجھے تب بھی نہ ہوا

جب مجھے پردیس جانے کے لیے تیار کیا گیا

جب مجھے غیروں میں بھیجنے کی تیاری کی گئی

تیری بے رحمی پہ 

اس وقت بہت روئی

جب مجھے اپنوں نے چھوڑ دیا

اس نامعلوم گُمشدہ احساس کے ساتھ

اس نادان شرمندہ احساس کے ساتھ

تیری بے رحمی کا احساس مجھے تب ہو گیا تھا

جب میرے کاندھوں پہ بچپن میں ہی بوجھ لاد دیا تھا

جیسے کلی کِھلنے کے بعد

اس احساس سے ہی مُرجھا جاتی ہے

کہ اس کی خوبصورتی

دوسروں کے لیے ہے

کہ اسے توڑ دیا جائے گا

کہ وہ اپاہج ہے

محتاج ہے

نہ بے ساکھی ہے

نہ سہارا

پر زندگی تو یہ نہیں جانتی

کہ تُو نے ایک وبا کو پیدا کردیا ہے

جو کہ میری تدفین کے وقت

زمین میں بس گئی ہے

پر میں نے

اسے دفن ہونے سے بچا لیا ہے

گر یہ تجھے لگ گئی 

تو  تیری آنکھوں سے خون بہنے لگے گا

تیرے بال تجھے جنگل کی طرف گھسیٹ کر لے جائیں گے

اور تجھے ان پیڑوں سے باندھ دیں گے

جن کی جڑیں آسمانوں کی طرف ہیں

تیرے ناخن تیرے جسم کو لپیٹ لیں گے

اُلٹے پیر اور اُلٹے منہ والے کُتے

اپنی زبانوں سے تیرے جسم کو گِیلا کریں گے

وہ وبا زمین کے ہر کونے سے نکل کر

آسمان کے سنگھوں کی طرف رواں ہے

وہ کونے جو تُو نے کبھی دریافت نہ کیے

وہ کونے جن کے ہر سوراخ میں

تیرے ذرے موجود ہیں

پر تُو بے خبر رہی

سمندر بھر مٹی

جو کہ بیلچہ میں پڑی ہے

تیری شکست کا اشارہ کر رہی ہے


کرن رباب

No comments:

Post a Comment