Wednesday, 17 June 2026

اپنے حصار جسم سے باہر بھی دیکھتے

 اپنے حصار جسم سے باہر بھی دیکھتے

ہم آئینے کے سامنے ہو کر بھی دیکھتے

عکس فلک سے ٹوٹتا کیسے جمود آپ

پتھر گرا کے جھیل کے اندر بھی دیکھتے

کرتے پلٹ کے اپنے ہی سائے سے گفتگو

صحرا میں زرد‌‌ رنگ سمندر بھی دیکھتے

دنیا کا خوف تھا تو لگاتے نہ آگ ہی

یا موم کا پگھلتا ہوا گھر بھی دیکھتے

حامد! تمام عمر یہ خواہش رہی ہمیں

اپنے بدن کی مرگ کا منظر بھی دیکھتے


حامد جیلانی

No comments:

Post a Comment