اس پار تو رہتے تھے کہ اس پار ہوئے ہم
جاناں کی سہیلی کے بھی دلدار ہوئے ہم
یکطرفہ محبت میں بھی چین نہیں تھا
دوطرفہ محبت سے بھی بیزار ہوئے ہم
دل اب بھی یہ کہتا ہے حسینوں کا ہو میلہ
اس حُسن پرستی میں تو بیمار ہوئے ہم
جب وصل میں رہتے تھے تو مدہوش پڑے تھے
اس ہجر کی چکی میں ہی فنکار ہوئے ہم
ہم اہلِ قلم ہیں، تمہیں دولت کی ہوس ہے
بے باک تمہارے لیے بے کار ہوئے ہم
بے باک ڈیروی
ظریف ببر
No comments:
Post a Comment