Friday, 26 June 2026

اس پار تو رہتے تھے کہ اس پار ہوئے ہم

 اس پار تو رہتے تھے کہ اس پار ہوئے ہم

جاناں کی سہیلی کے بھی دلدار ہوئے ہم

یکطرفہ محبت میں بھی چین نہیں تھا

دوطرفہ محبت سے بھی بیزار ہوئے ہم

دل اب بھی یہ کہتا ہے حسینوں کا ہو میلہ

اس حُسن پرستی میں تو بیمار ہوئے ہم

جب وصل میں رہتے تھے تو مدہوش پڑے تھے

اس ہجر کی چکی میں ہی فنکار ہوئے ہم

ہم اہلِ قلم ہیں، تمہیں دولت کی ہوس ہے

بے باک تمہارے لیے بے کار ہوئے ہم


بے باک ڈیروی

ظریف ببر

No comments:

Post a Comment