جذبۂ شوق جو انسان میں بیدار ہوا
قوم کا مونس و ہمدرد وہ غمخوار ہوا
فطرتِ نوع کہ آخر وہ شجر سوکھ گیا
اک ذرا وقت سے پہلے جو ثمر بار ہوا
اپنی اوقات دکھائے گا ہی مخلوط نسل
شخص جو رہبرِ ملت ہوا، سرکار ہوا
جذبۂ شوق جو انسان میں بیدار ہوا
قوم کا مونس و ہمدرد وہ غمخوار ہوا
فطرتِ نوع کہ آخر وہ شجر سوکھ گیا
اک ذرا وقت سے پہلے جو ثمر بار ہوا
اپنی اوقات دکھائے گا ہی مخلوط نسل
شخص جو رہبرِ ملت ہوا، سرکار ہوا
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
عرب سے آج بھی جو فیض عام جاری ہے
ہر اک زباں پہ درود و سلام جاری ہے
خدا کے دِین کی تشہیر اس طرح سے کی
بہ صد خلوص ابھی تک وہ کام جاری ہے
کتابِ نورِ الہیٰ روشن ہے سینوں میں
وہ حرف حرف سلامت، کلام جاری ہے
کرو گے شور تو آگے عذاب اور بڑھے
رہو خموش جہاں اضطراب اور بڑھے
کسی کی بات سے گر اختلاف رکھنا ہو
بجائے رد کے تِرا اجنتاب اور بڑھے
بلا وجہ کے تردد سے صبر بہتر ہے
یہی نہ ہوں کہ تذبذب جناب اور بڑھے
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
بستا دلِ بسمل میں ہے جانانِ مدینہ
بن جاؤں سدا کے لیے مہمانِ مدینہ
سرشار ہمہ وقت، گرفتارِ عقیدت
ہر قلب و ذہن طالبِ سلطانِ مدینہ
اوصافِ حمیدہ کے عدو بھی ہوئے قائل
وہ ہستئ نایاب ہے پہچانِ مدینہ
عارفانہ کلام حمدیہ کلام
گداز دست عطا جہاں تِری نعمتوں کا جواز ہے
تو دراز کج عملی وہاں مِری غفلتوں کا جواز ہے
یہ شرورِ خلقتِ بیکراں، یہ نظامِ کفر کی خود سری
نہ گرفت، نزورلِ قہر کم، تِری رحمتوں کا جواز ہے
سرِ دست مطیع کم ولے، تِرا ذکر دلانِ رقیقی میں
کہ ثنائے طائرِ خوشنوا تِری چاہتوں کا جواز ہے
کوئی شکوہ، نہ شکایت، نہ گِلہ ہے اے وقت
وقت بے وقت اگر درد دیا ہے اے وقت
مجھ کو معلوم تھا تم آنکھ دکھاؤ گے ضرور
میری ڈرپوک شرافت کا صِلہ ہے اے وقت
جھڑکیاں روز ملا کرتی ہیں، لیکن چپ ہوں
تُو بھی عزت کو گھٹانے پہ تُلا ہے اے وقت
مُکا بن کر پور اکھٹے ہوتے ہیں
جب جب کچھ کمزور اکھٹے ہوتے ہیں
لُوٹیں گے نادانو، کچھ تو سوچو نہ
ایوانوں میں چور اکھٹے ہوتے ہیں
جشنِ بہاراں جوبن پر آ جاتا ہے
پنکھ، پکھیرو، مور اکھٹے ہوتے ہیں