Showing posts with label گوہر رحمٰن. Show all posts
Showing posts with label گوہر رحمٰن. Show all posts

Saturday, 7 October 2023

جذبۂ شوق جو انسان میں بیدار ہوا

 جذبۂ شوق جو انسان میں بیدار ہوا

قوم کا مونس و ہمدرد وہ غمخوار ہوا

فطرتِ نوع کہ آخر وہ شجر سوکھ گیا

اک ذرا وقت سے پہلے جو ثمر بار ہوا

اپنی اوقات دکھائے گا ہی مخلوط نسل

شخص جو رہبرِ ملت ہوا، سرکار ہوا

Monday, 29 August 2022

عرب سے آج بھی جو فیض عام جاری ہے

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


عرب سے آج بھی جو فیض عام جاری ہے

ہر اک زباں پہ درود و سلام جاری ہے

خدا کے دِین کی تشہیر اس طرح سے کی

بہ صد خلوص ابھی تک وہ کام جاری ہے

کتابِ نورِ الہیٰ روشن ہے سینوں میں

وہ حرف حرف سلامت، کلام جاری ہے

Wednesday, 26 January 2022

کرو گے شور تو آگے عذاب اور بڑھے

 کرو گے شور تو آگے عذاب اور بڑھے

رہو خموش جہاں اضطراب اور بڑھے

کسی کی بات سے گر اختلاف رکھنا ہو

بجائے رد کے تِرا اجنتاب اور بڑھے

بلا وجہ کے تردد سے صبر بہتر ہے

یہی نہ ہوں کہ تذبذب جناب اور بڑھے

Friday, 24 December 2021

بستا دل بسمل میں ہے جانان مدینہ

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


بستا دلِ بسمل میں ہے جانانِ مدینہ

بن جاؤں سدا کے لیے مہمانِ مدینہ

سرشار ہمہ وقت، گرفتارِ عقیدت

ہر قلب و ذہن طالبِ سلطانِ مدینہ

اوصافِ حمیدہ کے عدو بھی ہوئے قائل

وہ ہستئ نایاب ہے پہچانِ مدینہ

Thursday, 23 December 2021

گداز دست عطا جہاں تری نعمتوں کا جواز ہے

عارفانہ کلام حمدیہ کلام


گداز دست عطا جہاں تِری نعمتوں کا جواز ہے

تو دراز کج عملی وہاں مِری غفلتوں کا جواز ہے

یہ شرورِ خلقتِ بیکراں، یہ نظامِ کفر کی خود سری

نہ گرفت، نزورلِ قہر کم، تِری رحمتوں کا جواز ہے

سرِ دست مطیع کم ولے، تِرا ذکر دلانِ رقیقی میں

کہ ثنائے طائرِ خوشنوا تِری چاہتوں کا جواز ہے

Wednesday, 22 December 2021

کوئی شکوہ نہ شکایت نہ گلہ ہے اے وقت

 کوئی شکوہ، نہ شکایت، نہ گِلہ ہے اے وقت

وقت بے وقت اگر درد دیا ہے اے وقت

مجھ کو معلوم تھا تم آنکھ دکھاؤ گے ضرور

میری ڈرپوک شرافت کا صِلہ ہے اے وقت

جھڑکیاں روز ملا کرتی ہیں، لیکن چپ ہوں

تُو بھی عزت کو گھٹانے پہ تُلا ہے اے وقت

Thursday, 2 September 2021

مکا بن کر پور اکھٹے ہوتے ہیں

 مُکا بن کر پور اکھٹے ہوتے ہیں

جب جب کچھ کمزور اکھٹے ہوتے ہیں

لُوٹیں گے نادانو، کچھ تو سوچو نہ

ایوانوں میں چور اکھٹے ہوتے ہیں

جشنِ بہاراں جوبن پر آ جاتا ہے

پنکھ، پکھیرو، مور اکھٹے ہوتے ہیں