Wednesday, 21 October 2026

دل منافق ہو تو پھر پیار نہیں ہو سکتا

 دل منافق ہو تو پھر پیار نہیں ہو سکتا

غم دیا جس نے وہ غمخوار نہیں ہو سکتا

ہم بچھائے ہوئے بیٹھے ہیں یہاں پر پلکیں

وہ یہ کہتے کہ؛ دیدار نہیں ہو سکتا

زخمِ دل سینچ رہے ہیں جو یہ کہتے تھے کبھی

گُل کے پہلو میں کبھی خار نہیں ہو سکتا

لے کے گر ساتھ چلیں سب کی دُعائیں یارو

راستہ کوئی بھی دُشوار نہیں ہو سکتا

چھوڑ جانے کو وہ کہتے تھے، چلو چھوڑ دیا

اب ہر اک بار تو انکار نہیں ہو سکتا


فرزانہ ساجد

No comments:

Post a Comment