دل منافق ہو تو پھر پیار نہیں ہو سکتا
غم دیا جس نے وہ غمخوار نہیں ہو سکتا
ہم بچھائے ہوئے بیٹھے ہیں یہاں پر پلکیں
وہ یہ کہتے کہ؛ دیدار نہیں ہو سکتا
زخمِ دل سینچ رہے ہیں جو یہ کہتے تھے کبھی
گُل کے پہلو میں کبھی خار نہیں ہو سکتا
لے کے گر ساتھ چلیں سب کی دُعائیں یارو
راستہ کوئی بھی دُشوار نہیں ہو سکتا
چھوڑ جانے کو وہ کہتے تھے، چلو چھوڑ دیا
اب ہر اک بار تو انکار نہیں ہو سکتا
فرزانہ ساجد
No comments:
Post a Comment