Sunday, 18 October 2026

ترے خیال کی دھونی رما کے بیٹھ گئے

 تِرے خیال کی دُھونی رما کے بیٹھ گئے

ہم اس زمانے سے دامن بچا کے بیٹھ گئے

بلا کا شور تھا جیون ندی کے اُس جانب

ہم اس کنارے پہ چُپ چاپ آ کے بیٹھ گئے

اُٹھے تھے سیرِ چمن کے لیے مگر یہ کیا؟

وہ بزمِ غیر میں کاہے کو جا کے بیٹھ گئے

کچھ اس طرح کے بھی میخوار میکدے میں ہیں

کہ جھُوم جھام لیا، پی پلا کے بیٹھ گئے

جو چاہتے تھے مِرے حق میں بولنا اعزاز

لبوں پہ اُن کے بھی کچھ سانپ آ کے بیٹھ گئے


خالد اعزاز

No comments:

Post a Comment