Monday, 5 October 2026

سوختہ کشتی کا ملبہ میں مرا دل اور شام

 سوختہ کشتی کا ملبہ میں مرا دل اور شام

غمزدہ اترے ہوئے دریا کا ساحل اور شام

رات کے اک پیشرس تارے کی دھڑکن تیز تیز

آنکھ میں سہمے ہوئے خوابوں کی جھلمل اور شام

خستگی سے چُور پاؤں حسرتِ واماندگی

کہر میں ڈُوبی ہوئی موہوم منزل اور شام

آشیاں میں منتظر بچوں کا کرب افزا خیال

رشتہ برپا طائروں کا رقصِ بسمل اور شام

میں یہ کاغذ اور اشک آلود شعروں کا نزول

ایک وادی ایک چشمے کی ترل رل اور شام


سید نصیر شاہ

No comments:

Post a Comment