سوختہ کشتی کا ملبہ میں مرا دل اور شام
غمزدہ اترے ہوئے دریا کا ساحل اور شام
رات کے اک پیشرس تارے کی دھڑکن تیز تیز
آنکھ میں سہمے ہوئے خوابوں کی جھلمل اور شام
خستگی سے چُور پاؤں حسرتِ واماندگی
کہر میں ڈُوبی ہوئی موہوم منزل اور شام
آشیاں میں منتظر بچوں کا کرب افزا خیال
رشتہ برپا طائروں کا رقصِ بسمل اور شام
میں یہ کاغذ اور اشک آلود شعروں کا نزول
ایک وادی ایک چشمے کی ترل رل اور شام
سید نصیر شاہ
No comments:
Post a Comment