زعفرانی کلام
مے کدۂ نگاہ سے جام پلا گیا کوئی
آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے الو بنا گیا کوئی
جذبۂ عشق کی کہاں قدر جہاں میں آج کل
سنتے ہی صرف مدعا تھانے چلا گیا کوئی
کوئے صنم میں گم تھا میں اپنے تصورات میں
ہارن بجا کے کار کا مجھ کو ڈرا گیا کوئی
زعفرانی کلام
مے کدۂ نگاہ سے جام پلا گیا کوئی
آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے الو بنا گیا کوئی
جذبۂ عشق کی کہاں قدر جہاں میں آج کل
سنتے ہی صرف مدعا تھانے چلا گیا کوئی
کوئے صنم میں گم تھا میں اپنے تصورات میں
ہارن بجا کے کار کا مجھ کو ڈرا گیا کوئی
زعفرانی کلام مقصدِ حیات
زندگی کیا چیز ہے کس دیس کی سوغات ہے
آؤ ہم بتلائیں کیوں جیتے ہیں ، کیا بات ہے
زندگی اپنی نمائش گاہِ پاکستان ہے
چار دن بجلی کا لیمپ اور پھر اندھیری رات ہے
آئے ہیں دنیا میں ہم کچھ کام کرنے کے لیے
کچھ خدا سے اور کچھ بیوی سے ڈرنے کے لیے
زعفرانی کلام
گاندھی کی بکری
یہ بکری بھی دیوی ہے نزدیک ہندو
یہ کرتی ہے میں میں وہ کرتے ہیں تُو تُو
دو سینگ اس کے ہیں غیرت شاخ آہو
بڑا مست ہے اس پہ ہندو کا باپو
بڑھاپے میں اس کا یہی ہے سہارا
مسلماں کو گاندھی کی بکری نے مارا
زعفرانی کلام
جی رہے ہیں کیا ہی لاچاری میں ہم
کار میں یار اور بے کاری میں ہم
اب ہمیں ٹھنڈی سڑک پر کیا خطر
رکھ چلے ہیں دل کو الماری میں ہم
موت کا ڈر، دل میں دھڑکن، لب پہ آہ
ہیں تِری محفل میں یا لاری میں ہم