Showing posts with label معظم سعید. Show all posts
Showing posts with label معظم سعید. Show all posts

Tuesday, 17 August 2021

کتنی مشکل یہ زندگی کر لی

 کتنی مشکل یہ زندگی کر لی

ہم نے وحشت سے دوستی کر لی

ماہ و انجم سے اب نہیں نسبت

جلتے سورج سے عاشقی کر لی

تم نے بستی کو کربلا سمجھا

ہم نے دنیا ہی ماتمی کر لی

Friday, 5 March 2021

نہ لذت عشق و عہد و پیماں نہ وصل جاناں ملے تو پوچھیں

 نہ لذت عشق و عہد و پیماں نہ وصل جاناں ملے تو پوچھیں

مِری طرح سے اگر تمہیں بھی عذابِ ہجراں ملے تو پوچھیں

تم اک مسافر ہو چاندنی کے تمازتوں کی تمہیں خبر کیا

سفر میں سایہ نہ کوئی آنچل نہ ابرِ باراں ملے تو پوچھیں

ابھی تمہاری سماعتوں کو فضائیں نغمے سنا رہی ہیں

خموشیوں میں ہے زہر کیسا یہ شامِ زنداں ملے تو پوچھیں

Tuesday, 2 March 2021

شام ڈھلنے والی ہے سوچتے ہیں گھر جائیں

 شام ڈھلنے والی ہے سوچتے ہیں گھر جائیں

پھر خیال آتا ہے، کس طرف، کدھر جائیں

ہجرتی پرندوں کا کچھ یقیں نہیں‌ ہوتا

کب ہوا کا رخ بدلے کب یہ کوچ کر جائیں

دھوپ کے مسافر بھی کیا عجب مسافر ہیں

سائے میں ٹھہر کر یہ سائے سے ہی ڈر جائیں

Monday, 1 March 2021

خواہشوں کا جب شجر ہم نے لگایا دھوپ میں

 خواہشوں کا جب شجر ہم نے لگایا دھوپ میں

جل گئے برگ و سمن اور کچھ نہ پایا دھوپ میں

دشت میں سورج بھی ہو گا یہ مجھے معلوم تھا

پھر بھی میں‌ نے موم کا اک گھر بنایا دھوپ میں

جلتے صحرا کی زمیں کو اوڑھ کر ہم سو گئے

اپنے بچوں کو نہیں لیکن سُلایا دھوپ میں

Sunday, 28 February 2021

لمحہ لمحہ ماتمی ہے آج کل

 لمحہ لمحہ ماتمی ہے آج کل

زندگی کیا زندگی ہے آج کل

خواب کی تعبیر کوئی کیا لکھے

دھول کاغذ پر جمی ہے آج کل

شورِ دل ہے نہ صدائے برگ و بار

پھر یہ کیسی بے کلی ہے آج کل

ایسا نہیں کہ بزم میں اچھا کوئی نہ تھا

 ایسا نہیں کہ بزم میں اچھا کوئی نہ تھا

لیکن مجھے یقین ہے تم سا کوئی نہ تھا

کل شام کیوں اداس تھے دل کی گلی میں لوگ

میرے سوا تو شہر میں تنہا کوئی نہ تھا

اک شوق تھا کہ خود سے ملاقات ہو کبھی

لیکن مِرے مکان میں مجھ سا کوئی نہ تھا

Saturday, 27 February 2021

نہ سر پر آسماں کوئی

 نہ سر پر آسماں کوئی


کبھی ایسا بھی ہوتا ہے

اندھیرے شام سے پہلے نگاہوں میں اترتے ہیں

چمکتی دھوپ کا منظر بہت تاریک لگتا ہے

گھنے پیڑوں کے سائے بھی

زمیں سے روٹھ جاتے ہیں

کہ صبحِ نو بہاراں بھی خزاں معلوم ہوتی ہے