کتنی مشکل یہ زندگی کر لی
ہم نے وحشت سے دوستی کر لی
ماہ و انجم سے اب نہیں نسبت
جلتے سورج سے عاشقی کر لی
تم نے بستی کو کربلا سمجھا
ہم نے دنیا ہی ماتمی کر لی
کتنی مشکل یہ زندگی کر لی
ہم نے وحشت سے دوستی کر لی
ماہ و انجم سے اب نہیں نسبت
جلتے سورج سے عاشقی کر لی
تم نے بستی کو کربلا سمجھا
ہم نے دنیا ہی ماتمی کر لی
نہ لذت عشق و عہد و پیماں نہ وصل جاناں ملے تو پوچھیں
مِری طرح سے اگر تمہیں بھی عذابِ ہجراں ملے تو پوچھیں
تم اک مسافر ہو چاندنی کے تمازتوں کی تمہیں خبر کیا
سفر میں سایہ نہ کوئی آنچل نہ ابرِ باراں ملے تو پوچھیں
ابھی تمہاری سماعتوں کو فضائیں نغمے سنا رہی ہیں
خموشیوں میں ہے زہر کیسا یہ شامِ زنداں ملے تو پوچھیں
شام ڈھلنے والی ہے سوچتے ہیں گھر جائیں
پھر خیال آتا ہے، کس طرف، کدھر جائیں
ہجرتی پرندوں کا کچھ یقیں نہیں ہوتا
کب ہوا کا رخ بدلے کب یہ کوچ کر جائیں
دھوپ کے مسافر بھی کیا عجب مسافر ہیں
سائے میں ٹھہر کر یہ سائے سے ہی ڈر جائیں
خواہشوں کا جب شجر ہم نے لگایا دھوپ میں
جل گئے برگ و سمن اور کچھ نہ پایا دھوپ میں
دشت میں سورج بھی ہو گا یہ مجھے معلوم تھا
پھر بھی میں نے موم کا اک گھر بنایا دھوپ میں
جلتے صحرا کی زمیں کو اوڑھ کر ہم سو گئے
اپنے بچوں کو نہیں لیکن سُلایا دھوپ میں
لمحہ لمحہ ماتمی ہے آج کل
زندگی کیا زندگی ہے آج کل
خواب کی تعبیر کوئی کیا لکھے
دھول کاغذ پر جمی ہے آج کل
شورِ دل ہے نہ صدائے برگ و بار
پھر یہ کیسی بے کلی ہے آج کل
ایسا نہیں کہ بزم میں اچھا کوئی نہ تھا
لیکن مجھے یقین ہے تم سا کوئی نہ تھا
کل شام کیوں اداس تھے دل کی گلی میں لوگ
میرے سوا تو شہر میں تنہا کوئی نہ تھا
اک شوق تھا کہ خود سے ملاقات ہو کبھی
لیکن مِرے مکان میں مجھ سا کوئی نہ تھا
نہ سر پر آسماں کوئی
کبھی ایسا بھی ہوتا ہے
اندھیرے شام سے پہلے نگاہوں میں اترتے ہیں
چمکتی دھوپ کا منظر بہت تاریک لگتا ہے
گھنے پیڑوں کے سائے بھی
زمیں سے روٹھ جاتے ہیں
کہ صبحِ نو بہاراں بھی خزاں معلوم ہوتی ہے