خواہشوں کا جب شجر ہم نے لگایا دھوپ میں
جل گئے برگ و سمن اور کچھ نہ پایا دھوپ میں
دشت میں سورج بھی ہو گا یہ مجھے معلوم تھا
پھر بھی میں نے موم کا اک گھر بنایا دھوپ میں
جلتے صحرا کی زمیں کو اوڑھ کر ہم سو گئے
اپنے بچوں کو نہیں لیکن سُلایا دھوپ میں
اس کی خواہش تھی کہ میرا دل جھلس کر راکھ ہو
دل تھا لیکن آئینہ سو جگمگایا دھوپ میں
چاہتوں کی چھاؤں میں بھی اب بدن جلنے لگے
آؤ چل کر ڈھونڈتے ہیں کوئی سایا دھوپ میں
سورجوں کے بیچ تنہا رہ گیا تھا میں سعید
مدتوں کے بعد اب یہ کون آیا دھوپ میں
معظم سعید
No comments:
Post a Comment