Monday, 1 March 2021

اس نے جانے کی کہی ہو جیسے

 اس نے جانے کی کہی ہو جیسے

کوئی آندھی سی چلی ہو جیسے 

آج کچھ ایسی تھکن ہے مجھ کو 

رات آنکھوں میں کٹی ہو جیسے 

پھر مِری آنکھ سے آنسو ٹپکا

کوئی امید بندھی ہو جیسے

آج ہنسنے کو بہت جی چاہے 

دل پہ اک چوٹ لگی ہو جیسے 

تجھ سے مل کر یہ ہوا ہے محسوس 

زندگی آج ملی ہو جیسے 


عابدہ کرامت

No comments:

Post a Comment