Monday, 1 March 2021

اتنی بار محبت کرنا کتنا مشکل ہو جاتا ہے

 اتنی بار محبت کرنا کتنا مشکل ہو جاتا ہے

انسانوں پہ ہجرت کرنا کتنا مشکل ہو جاتا ہے

شب بھر تاروں کو گننے میں کتنی دشواری ہے یار

جاگتے رہنا عادت کرنا کتنا مشکل ہو جاتا ہے

میرے اندر کی سب راتیں سائے جتنی رہتی ہیں

تاریکی سے صحبت کرنا کتنا مشکل ہو جاتا ہے

کتنا مشکل ہو جاتا ہے کرنا اور نہ کرنا سب

یہ کرنا، تم یہ مت کرنا کتنا مشکل ہو جاتا ہے

تجھ کو چھونے کی خواہش میں پل پل جلتا رہتا ہوں

تیرے جسم کی حسرت کرنا کتنا مشکل ہو جاتا ہے


علی عمران

No comments:

Post a Comment