Monday, 1 March 2021

وہ بجھ گیا تو اندھیروں کو بھی ملال رہا

 وہ بجھ گیا تو اندھیروں کو بھی ملال رہا

وہ اک چراغ جو جلنے میں بھی بے مثال رہا

کبھی بھُلا نہ سکا دل💔 شکستگی اپنی

جُڑا تو جُڑ کے بھی اس آئینے میں بال رہا

تمہارے بعد کسی سے فریب کھایا نہیں

تمہارا مجھ سے بچھڑنا بھی نیک فال رہا

غموں کو حاوی نہ ہونے دیا کبھی دل پر

شبِ فراق بھی ذکرِ شبِ وصال رہا

غزل اسی کی تھی حاوی تمام غزلوں پر

وہاں بھی رونقِ بزمِ سخن کمال رہا


احمد کمال حشمی

No comments:

Post a Comment