Monday, 1 March 2021

یہ دریا ہے یا تیرے شاعر کا سینہ ہے

 یہ دریا ہے 

یا تیرے شاعر کا سینہ ہے

جس میں مہا رنگ موتی ہے

اس گہرے دریا پہ

کیسے

ستاروں کی جھلمل ہے

کس دُودھیا روشنی کی طربناک لرزش ہے

اندھی، اندھیروں بھری گہری پاتال میں

اک اُبھرتا ہوا

کیسا مہتاب ہے

تیرے شاعر کے شفّاف لفظوں کی صورت

اُفق کے سیہ رنگ سینے سے

باہر نکلنے کو

مہتاب بے تاب ہے


اقتدار جاوید

No comments:

Post a Comment