جواں دل ہجرتیں کرنے لگے ہیں
گلے کٹ کر بدن سے گِر رہے ہیں
سنائیں کس طرح قصے وفا کے
مِرے چاروں طرف پہرے لگے ہیں
محبت کی کوئی کھڑکی نہیں ہے
تعجب ہے کہ پھر بھی جی رہے ہیں
لکھوں کیسے تمہاری داستاں میں
کہ کاغذ خون میں بھیگے ہوئے ہیں
مسافت ہجر کی آساں نہیں ہے
محبت کے مسافر بولتے ہیں
وسیم اب ہو گیا محسوس ہم کو
محبت ہم بھی اب کرنے لگے ہیں
وسیم بدایونی
No comments:
Post a Comment