تنہائی میں دیکھے تو بدل لیتا ہے تیور
او ماں! اری او ماں بڑا نٹ کھٹ مِرا دیور
نتھ کپڑوں کی جوڑی، سڑی پازیب نگوڑی
وہ شہر سے لایا ہے مِرے واسطے زیور
کپڑے پہ ہو گُل کاری، گھنی گوٹہ کناری
پریتم کی ہوں پیاری، مجھے پہناؤ وہ تریور
دریا کے کسی گھاٹ پہ باجے کوئی بنسی
رستے کے کسی موڑ پہ چھنکے کوئی نیور
سید ناصر شہزاد
No comments:
Post a Comment