قربان کرتے ہیں اپنی انا فقیر لوگ
مانگتے ہیں سب کا بھلا فقیر لوگ
اُن کے اعمال ہی سے قائم ہے یہ دنیا
زیر لب رکھتے ہیں دعا فقیر لوگ
دامان میں رکھتے ہیں وفا کی دولت
کرتے ہیں عجب عہد وفا فقیر لوگ
قربان کرتے ہیں اپنی انا فقیر لوگ
مانگتے ہیں سب کا بھلا فقیر لوگ
اُن کے اعمال ہی سے قائم ہے یہ دنیا
زیر لب رکھتے ہیں دعا فقیر لوگ
دامان میں رکھتے ہیں وفا کی دولت
کرتے ہیں عجب عہد وفا فقیر لوگ
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
میرے قلم کی جو بھی صدا ہے مولا
سبھی وہ تیری عطا ہے مولا
جی رہا ہوں دیارِ غم میں بھی
کرم یہ مجھ پہ کیا ہے مولا
تیرے کرم سے ڈھکا ہوا ہوں
یہ رحمتوں کی قبا ہے مولا
حال ہوتا ہے کیسا غربت سے
صاف ظاہر ہے میری رنگت سے
خود ہمارا ہی معتقد نکلا
ہم نے دیکھا جسے عقیدت سے
جس کو دیکھے بنا قرار نہیں
اس کو دیکھا نہیں ہے مدت سے
آنچل سر پہ جب رکھتی ہو
کتنی پیاری تم لگتی ہو
سورج بھی تو جب شرما جائے
کندن دھوپ میں جب جلتی ہو
رخ پہ پڑتی کرنوں سے
چاند کے جیسے کھلتی ہو