Showing posts with label حماد بھٹی. Show all posts
Showing posts with label حماد بھٹی. Show all posts

Tuesday, 30 December 2025

قربان کرتے ہیں اپنی انا فقیر لوگ

 قربان کرتے ہیں اپنی انا فقیر لوگ

مانگتے ہیں سب کا بھلا فقیر لوگ

اُن کے اعمال ہی سے قائم ہے یہ دنیا

زیر لب رکھتے ہیں دعا فقیر لوگ

دامان میں رکھتے ہیں وفا کی دولت

کرتے ہیں عجب عہد وفا فقیر لوگ

Thursday, 29 May 2025

میرے قلم کی جو بھی صدا ہے مولا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


میرے قلم کی جو بھی صدا ہے مولا

سبھی وہ تیری عطا ہے مولا

جی رہا ہوں دیارِ غم میں بھی

کرم یہ مجھ پہ کیا ہے مولا

تیرے کرم سے ڈھکا ہوا ہوں

یہ رحمتوں کی قبا ہے مولا

Saturday, 27 March 2021

حال ہوتا ہے کیسا غربت سے

حال ہوتا ہے کیسا غربت سے

صاف ظاہر ہے میری رنگت سے

خود ہمارا ہی معتقد نکلا

ہم نے دیکھا جسے عقیدت سے

جس کو دیکھے بنا قرار نہیں

اس کو دیکھا نہیں ہے مدت سے

Tuesday, 9 March 2021

آنچل سر پہ جب رکھتی ہو

آنچل سر پہ جب رکھتی ہو

کتنی پیاری تم لگتی ہو

سورج بھی تو جب شرما جائے

کندن دھوپ میں جب جلتی ہو

رخ پہ پڑتی کرنوں سے

چاند کے جیسے کھلتی ہو