تو گفتگو کے شوق میں مجھ کو نڈھال کر
میں کچھ نہ کہہ سکوں مجھے اتنے سوال کر
دریا سموئے بیٹھا تھا آنکھوں کے دشت میں
جب جب کہا گیا مجھے کوئی کمال کر
ہارے ہوئے ہے شخص کو ہیڈ اور ٹیل کیا
کس کو دکھا رہا ہے تُو سکہ اچھال کر
تو گفتگو کے شوق میں مجھ کو نڈھال کر
میں کچھ نہ کہہ سکوں مجھے اتنے سوال کر
دریا سموئے بیٹھا تھا آنکھوں کے دشت میں
جب جب کہا گیا مجھے کوئی کمال کر
ہارے ہوئے ہے شخص کو ہیڈ اور ٹیل کیا
کس کو دکھا رہا ہے تُو سکہ اچھال کر
غم کا آنسو ہو تو آنکھوں کو خوشی ملتی ہے
خشک لکڑی کو تو دیمک بھی بڑی لگتی ہے
گھر سے یوں ہی نہیں مانوس ہواؤں کا گزر
ایک کھڑکی ہے جو ساحل کی طرف کُھلتی ہے
کب تقاضا ہے کہ تم دور تلک ساتھ رہو
یہ تو گاڑی ہے کسی موڑ پہ رُک سکتی ہے
وحشت بھی چیخنے لگی گھر بار دیکھ کر
ڈرتا ہوں روز سایۂ دیوار دیکھ کر
گھر کی سفیدی چاٹ گئیں غم کی دیمکیں
مکڑی نے جالے بُن دئیے آثار دیکھ کر
خمدار قوس ہے کہ بدن اسکا کیا کہیں
رکتا ہے دل سبھی کا یہ پرکار دیکھ کر
غور کرتے ہیں تو فطرت کا پتہ چلتا ہے
دشت، ٹیلوں کے تعاقب میں ہوا رکھتا ہے
بڑھتی جاتی ہے چراغوں کو بُجھانے سے نگاہ
لگتے لگتے یہ ہُنر ہاتھ کہیں لگتا ہے
ہم تِرے پاس بہانے سے چلے آتے ہیں
تِیر کو فاصلہ طے کرنا نہیں پڑتا ہے