Showing posts with label رضوان مقیم. Show all posts
Showing posts with label رضوان مقیم. Show all posts

Tuesday, 6 January 2026

تو گفتگو کے شوق میں مجھ کو نڈھال کر

 تو گفتگو کے شوق میں مجھ کو نڈھال کر 

میں کچھ  نہ کہہ سکوں مجھے اتنے سوال کر

دریا سموئے بیٹھا تھا آنکھوں کے دشت میں

جب جب کہا گیا مجھے کوئی کمال کر 

ہارے ہوئے ہے شخص کو ہیڈ اور ٹیل کیا 

کس کو دکھا رہا ہے تُو سکہ اچھال کر

Sunday, 4 January 2026

غم کا آنسو ہو تو آنکھوں کو خوشی ملتی ہے

 غم کا آنسو ہو تو آنکھوں کو خوشی ملتی ہے

خشک لکڑی کو تو دیمک بھی بڑی لگتی ہے

گھر سے یوں ہی نہیں مانوس ہواؤں کا گزر 

ایک کھڑکی ہے جو ساحل کی طرف کُھلتی ہے

کب تقاضا ہے کہ تم دور تلک ساتھ رہو 

یہ تو گاڑی ہے کسی موڑ پہ رُک سکتی ہے 

Friday, 2 January 2026

وحشت بھی چیخنے لگی گھر بار دیکھ کر

 وحشت بھی چیخنے لگی گھر بار دیکھ کر 

ڈرتا ہوں روز سایۂ دیوار دیکھ کر 

گھر کی سفیدی چاٹ گئیں غم کی دیمکیں

مکڑی نے جالے بُن دئیے آثار دیکھ کر 

خمدار قوس ہے کہ بدن اسکا کیا کہیں

رکتا ہے دل سبھی کا یہ پرکار دیکھ کر 

Thursday, 1 January 2026

غور کرتے ہیں تو فطرت کا پتہ چلتا ہے

 غور کرتے ہیں تو فطرت کا پتہ چلتا ہے

دشت، ٹیلوں کے تعاقب میں ہوا رکھتا ہے 

بڑھتی جاتی ہے چراغوں کو بُجھانے سے نگاہ

لگتے لگتے یہ ہُنر ہاتھ کہیں لگتا ہے

ہم تِرے پاس بہانے سے چلے آتے ہیں 

تِیر کو فاصلہ طے کرنا نہیں پڑتا ہے