Friday, 2 January 2026

وحشت بھی چیخنے لگی گھر بار دیکھ کر

 وحشت بھی چیخنے لگی گھر بار دیکھ کر 

ڈرتا ہوں روز سایۂ دیوار دیکھ کر 

گھر کی سفیدی چاٹ گئیں غم کی دیمکیں

مکڑی نے جالے بُن دئیے آثار دیکھ کر 

خمدار قوس ہے کہ بدن اسکا کیا کہیں

رکتا ہے دل سبھی کا یہ پرکار دیکھ کر 

بازار کی یہ رونقیں یونہی رہیں بحال

قیمت گھٹا دی اپنی خریدار دیکھ کر 

ساقی نے جام سب کو پلایا ہوا تو ہے

مقدار دیکھ کر کبھی معیار دیکھ کر

تجھ پر اُدھار ہیں کئی شاموں کی سرخیاں

رک جا ہماری صبح کو لا چار دیکھ کر 

یونہی یقیں نہیں کیا اس شخص پر مقیم

آیا تھا پاس وہ مجھے بے زار دیکھ کر


رضوان مقیم

No comments:

Post a Comment