وحشت بھی چیخنے لگی گھر بار دیکھ کر
ڈرتا ہوں روز سایۂ دیوار دیکھ کر
گھر کی سفیدی چاٹ گئیں غم کی دیمکیں
مکڑی نے جالے بُن دئیے آثار دیکھ کر
خمدار قوس ہے کہ بدن اسکا کیا کہیں
رکتا ہے دل سبھی کا یہ پرکار دیکھ کر
بازار کی یہ رونقیں یونہی رہیں بحال
قیمت گھٹا دی اپنی خریدار دیکھ کر
ساقی نے جام سب کو پلایا ہوا تو ہے
مقدار دیکھ کر کبھی معیار دیکھ کر
تجھ پر اُدھار ہیں کئی شاموں کی سرخیاں
رک جا ہماری صبح کو لا چار دیکھ کر
یونہی یقیں نہیں کیا اس شخص پر مقیم
آیا تھا پاس وہ مجھے بے زار دیکھ کر
رضوان مقیم
No comments:
Post a Comment