گمنام
ہم نے کتنے دیپ جلائے
ہم نے کتنے نقش بنائے
ہم نے کتنے پھول کھلائے
چلتے چلتے آئے یہاں تک
سوزِ نہاں تک
سُود و زیاں تک
لیکن ہم کو کس نے مانا
کس نے ہمارے درد کو جانا
ہم تو سدا گُمنام رہے
ہم تاریخ کے زِندانوں میں
قیدِ غم و آلام رہے
بے وُقعت، بے نام رہے
جُرم کیا آدمؑ نے لیکن
ہم پھر بھی بدنام رہے
نسیم نازش
No comments:
Post a Comment