Saturday, 3 January 2026

جرم کیا آدم نے لیکن ہم پھر بھی بدنام رہے

 گمنام


ہم نے کتنے دیپ جلائے

ہم نے کتنے نقش بنائے

ہم نے کتنے پھول کھلائے

چلتے چلتے آئے یہاں تک

سوزِ نہاں تک

سُود و زیاں تک

لیکن ہم کو کس نے مانا

کس نے ہمارے درد کو جانا

ہم تو سدا گُمنام رہے

ہم تاریخ کے زِندانوں میں

قیدِ غم و آلام رہے

بے وُقعت، بے نام رہے

جُرم کیا آدمؑ نے لیکن

ہم پھر بھی بدنام رہے


نسیم نازش

No comments:

Post a Comment