Saturday, 3 January 2026

رکھا ہے مدینے کا سفر سمت نظر میں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


رکھا ہے مدینے کا سفر سمتِ نظر میں

اشکوں کے خزانے ہیں مِرے زادِ سفر میں

بخشی مِرے دل کو تِری رحمت نے یہ رقت

امیدِ شفاعت ہے مِرے دیدۂ تر میں

وہ نُور تھا رُخ پر جو کرے آنکھ کو خِیرہ

ہے آپ کے جلوے کی جھلک شمس و قمر میں

بطحا کی طرف جاتی ہے جو راہ، مِری خاک

اے کاش بکھر جائے اسی راہگزر میں

ہے ردِّ بلا میرے لیے نامِ محمدﷺ

یہ نام سہارا ہے ہر اک خوف میں، ڈر میں

لکھتی ہوں میں جب مدحتِ سرکارِ مدینہﷺ

ڈھل جاتے ہیں الفاظ مِرے لعل و گُہر میں

کیا خوب سفر تھا، ہوئی معراج مکمل

کیا سیرِ فلک تھی کہ ہوئی ثانیہ بھر میں

ہو جائیں گی آسانی سے حل مُشکلیں میری

لب پر ہے درود، ان کی شفاعت ہے نظر میں

کر دے مِرے لفظوں کو مؤقر مِرے مولیٰ

تاثیر پذیری ہو عطا عرضِ ہُنر میں


نسرین سید

No comments:

Post a Comment