Saturday, 3 January 2026

یہ ریگزار اگر راہگزر کا حصہ ہے

 یہ ریگزار اگر راہگزر کا حصہ ہے

تو پھر یہ آبلہ پائی سفر کا حصہ ہے

یہ ساری فتنہ گری ایک حرفِ کذب کی ہے

تمام آگ اسی اک شرر کا حصہ ہے

بحال کر گیا سانسیں کسی کا دستِ شفا

یہ باقی عمر اُسی چارہ گرکا حصہ ہے

جو پھول کھلتے ہیں تو مجھ میں دن نکلتا ہے

یہ میرا خوابِ سحر بھی سحر کا حصہ ہے

حصولِ رزق بھی میں تیرے دھیان میں چاہوں

مرا سخن مرے کسبِ ہنر کا حصہ ہے

کہیں بھی کچھ ہو مرے گھر پہ آنچ آتی ہے

تمام شہر مرے بام و در کا حصہ ہے

شنید ہے کہ کوئی کام ہونے والا ہے

یہ گرم و سردِ جہاں اس خبر کا حصہ ہے

کھلا کہ چشمِ تماشہ ہی اصل منظر ہے

تمام رونقِ دنیا نظر کا حصہ ہے

کڑکتی دھوپ میں بس دو گھڑی ٹہھر جاؤ

شجر کا سایہ اسی دوپہر کا حصہ ہے

وہ ایک سنگ کے پہچان بن گیا شاہد

یہ زخم سر میں نہیں میرے سر کا حصہ ہے


سلیم شاہد

No comments:

Post a Comment