دینے والے یہ زندگی دی ہے
یا مِرے ساتھ دل لگی کی ہے
ہم کو معلوم ہی نہ تھا یہ راز
موت کا نام زندگی بھی ہے
آشیانوں کی خیر ہو یا رب
صحنِ گلشن میں روشنی سی ہے
دینے والے یہ زندگی دی ہے
یا مِرے ساتھ دل لگی کی ہے
ہم کو معلوم ہی نہ تھا یہ راز
موت کا نام زندگی بھی ہے
آشیانوں کی خیر ہو یا رب
صحنِ گلشن میں روشنی سی ہے
ضو بار اسی سمت ہوئے شمس و قمر بھی
اس شوخ نے پھیرا رخِ پُر نور جدھر بھی
مٹتی ہے کہیں دل سے شب غم کی سیاہی
ہوتی ہے کہیں ہجر کے ماروں کی سحر بھی
ہیں دونوں جہاں ایک ہی تنویر کے پرتو
ہے ایک ہی جلوہ جو ادھر بھی ہے ادھر بھی
پوچھتے ہیں بزم میں سن کر وہ افسانہ مِرا
آپ ہیں کہتی ہے دنیا جس کو دیوانہ مرا
بس یہی ہے مختصر تشریح حسن و عشق کی
وہ تمہاری داستاں ہے یہ ہے افسانہ مرا
ہیں تصور میں تِرے جلوے تری رعنائیاں
رونقِ صد انجمن ہے آج ویرانہ مرا
مسرت کو مسرت غم کو جو بس غم سمجھتے ہیں
وہ ناداں زندگی کا راز اکثر کم سمجھتے ہیں
حقیقت میں وہی رازِ حقیقت سے ہیں ناواقف
جنہیں دعویٰ ہے یہ رازِ حقیقت ہم سمجھتے ہیں
نہیں حاجت ہمیں اے چارہ سازو چارہ سازی کی
ہم اپنے درد ہی کو درد کا مرہم سمجھتے ہیں
تجھ سے تصورات میں اے جانِ آرزو
باندھے ہیں ہم نے سینکڑوں پیمان آرزو
اے رشکِ نو بہار ترے انتظار میں
کیا کیا کھلائے ہم نے گلستان آرزو
پھر دل میں داغ ہائے تمنا ہیں ضوفشاں
پھر کر رہا ہوں جشن چراغان آرزو