Showing posts with label برہما نند جلیس. Show all posts
Showing posts with label برہما نند جلیس. Show all posts

Thursday, 4 August 2022

دینے والے یہ زندگی دی ہے

 دینے والے یہ زندگی دی ہے

یا مِرے ساتھ دل لگی کی ہے

ہم کو معلوم ہی نہ تھا یہ راز

موت کا نام زندگی بھی ہے

آشیانوں کی خیر ہو یا رب

صحن‌ِ گلشن میں روشنی سی ہے

Sunday, 24 July 2022

ضو بار اسی سمت ہوئے شمس و قمر بھی

 ضو بار اسی سمت ہوئے شمس و قمر بھی

اس شوخ نے پھیرا رخِ پُر نور جدھر بھی

مٹتی ہے کہیں دل سے شب غم کی سیاہی

ہوتی ہے کہیں ہجر کے ماروں کی سحر بھی

ہیں دونوں جہاں ایک ہی تنویر کے پرتو

ہے ایک ہی جلوہ جو ادھر بھی ہے ادھر بھی

Wednesday, 20 July 2022

پوچھتے ہیں بزم میں سن کر وہ افسانہ مرا

 پوچھتے ہیں بزم میں سن کر وہ افسانہ مِرا

آپ ہیں کہتی ہے دنیا جس کو دیوانہ مرا

بس یہی ہے مختصر تشریح حسن و عشق کی

وہ تمہاری داستاں ہے یہ ہے افسانہ مرا

ہیں تصور میں تِرے جلوے تری رعنائیاں

رونقِ صد انجمن ہے آج ویرانہ مرا

Saturday, 10 July 2021

مسرت کو مسرت غم کو جو بس غم سمجھتے ہیں

 مسرت کو مسرت غم کو جو بس غم سمجھتے ہیں

وہ ناداں زندگی کا راز اکثر کم سمجھتے ہیں

حقیقت میں وہی رازِ حقیقت سے ہیں ناواقف

جنہیں دعویٰ ہے یہ رازِ حقیقت ہم سمجھتے ہیں

نہیں حاجت ہمیں اے چارہ سازو چارہ سازی کی

ہم اپنے درد ہی کو درد کا مرہم سمجھتے ہیں

Wednesday, 11 November 2020

تجھ سے تصورات میں اے جان آرزو

 تجھ سے تصورات میں اے جانِ آرزو

باندھے ہیں ہم نے سینکڑوں پیمان آرزو

اے رشکِ نو بہار ترے انتظار میں

کیا کیا کھلائے ہم نے گلستان آرزو

پھر دل میں داغ ہائے تمنا ہیں ضوفشاں

پھر کر رہا ہوں جشن چراغان آرزو