Thursday, 4 August 2022

دینے والے یہ زندگی دی ہے

 دینے والے یہ زندگی دی ہے

یا مِرے ساتھ دل لگی کی ہے

ہم کو معلوم ہی نہ تھا یہ راز

موت کا نام زندگی بھی ہے

آشیانوں کی خیر ہو یا رب

صحن‌ِ گلشن میں روشنی سی ہے

ہم نے برسوں جگر جلایا ہے

پھر کہیں دل میں روشنی کی ہے

آپ سے دوستی کا اک مفہوم

ساری دنیا سے دشمنی بھی ہے

لوگ مرتے ہیں زندگی کے لیے

ہم نے مر مر کے زندگی کی ہے

ہم کو مارا ہے عاشقی نے جلیس

لوگ کہتے ہیں خود کشی کی ہے


برہما نند جلیس

No comments:

Post a Comment