ازار بند
سلگنے والے نگر کی روشن سڑک پہ کوئی
پھٹا پرانا لباس پہنے یہ کہہ رہی تھی
ہوس پرستو! مرے بطن سے گرے جنازے
تمہارے چہرے پہ تھوکتے ہیں
کئی گُلِ نو دمیدہ اپنی پھٹی قباؤں پہ رو رہے ہیں
خزاں بہاروں کو نوچتی ہے
تمہارا وحشی سماج کیسے لباس پہنے
کہ جس نے ننگے بدن کا سودا کیا ہوا ہے
تمہاری آنکھیں درندگی سے بھری ہوئی ہیں
تمہاری شلوار گر رہی ہے
تو وحشیو
یہ ازار بند اپنے واسطے لو
بہت ہی اچھا، بہت ہی سستا
یہ تیس کا اک، پچاس کے دو
یہ تیس کا اک، پچاس کے دو
تمہاری شلوار کا گلا یہ دبائے رکھے
ہماری عزت بچائے رکھے
یہ تیس کا اک، پچاس کے دو
زین عباس
No comments:
Post a Comment