Thursday, 4 August 2022

یہ ازار بند اپنے واسطے لو

 ازار بند


سلگنے والے نگر کی روشن سڑک پہ کوئی 

پھٹا پرانا لباس پہنے یہ کہہ رہی تھی 

ہوس پرستو! مرے بطن سے گرے جنازے 

تمہارے چہرے پہ تھوکتے ہیں 

کئی گُلِ نو دمیدہ اپنی پھٹی قباؤں پہ رو رہے ہیں 

خزاں بہاروں کو نوچتی ہے 

تمہارا وحشی سماج کیسے لباس پہنے 

کہ جس نے ننگے بدن کا سودا کیا ہوا ہے 

تمہاری آنکھیں درندگی سے بھری ہوئی ہیں 

تمہاری شلوار گر رہی ہے 

تو وحشیو

یہ ازار بند اپنے واسطے لو 

بہت ہی اچھا، بہت ہی سستا 

یہ تیس کا اک، پچاس کے دو

یہ تیس کا اک، پچاس کے دو 

تمہاری شلوار کا گلا یہ دبائے رکھے 

ہماری عزت بچائے رکھے 

یہ تیس کا اک، پچاس کے دو 


زین عباس

No comments:

Post a Comment