Showing posts with label افضل پرویز. Show all posts
Showing posts with label افضل پرویز. Show all posts

Sunday, 10 January 2021

حسن ہیرے کی کنی ہو جیسے

 حسن ہیرے کی کنی ہو جیسے

اور مِری جاں پہ بنی ہو جیسے

تیری چتون کے عجب تیور ہیں

سر پہ تلوار تنی ہو جیسے

ریزہ ریزہ ہوئے مینا و ایاغ

رِند و ساقی میں ٹھنی ہو جیسے

Saturday, 9 January 2021

جو درد دل کہو آہستہ بولو

 جو دردِ دل کہو، آہستہ بولو 

خوشی سے غم سہو آہستہ بولو 

فغاں کرنا بھی جرم عاشقی ہے 

بڑے چوکس رہو، آہستہ بولو 

تمہاری آہ بھی ہے بار خاطر 

تکلم کے شہو! آہستہ بولو 

Tuesday, 5 January 2021

گرد اڑے یا کوئی آندھی ہی چلے

 گرد اڑے یا کوئی آندھی ہی چلے

یہ امس تو کسی عنوان ٹلے

انگ پر زخم لیے خاک ملے

آن بیٹھے ہیں ترے محل تلے

اپنا گھر شہر خموشاں سا ہے

کون آئے گا یہاں شام ڈھلے

Sunday, 3 January 2021

کار زار عشق و سر مستی میں نصرت یاب ہوں

 کارزارِ عشق و سر مستی میں نصرت یاب ہوں

وہ جنونی دار تک جانے کو جو بے تاب ہوں

کوہساروں پر سوا نیزے پہ سورج آئے تو

چوٹیوں کی برف پگھلے وادیاں سیراب ہوں

دوسرے ساحل پہ کوئی سوہنی ہو منتظر

ہم مہینوالوں کے آگے بحر بھی پایاب ہوں

Saturday, 2 January 2021

فسوں ٹوٹتا ہے

 فسوں ٹوٹتا ہے


یہ تجریدی خاکوں کی تصویر گہ ہے

مِرا منہ چِڑانے کو دیوار و در پر کئی مسخ پیکر ٹنگے ہیں

مجھے گھورتے ہیں، ڈراتے ہیں مجھ کو

میں ان سیدھی‌ الٹی لکیروں کے دامِ ریا میں الجھ گیا ہوں

بالآخر فسونِ ریا ٹوٹتا ہے

Saturday, 5 December 2015

خوش قسمت ہیں وہ جو گاؤں میں لمبی تان کے سوتے ہیں

خوش قسمت ہیں وہ جو گاؤں میں لمبی تان کے سوتے ہیں
ہم تو شب بھر شہر کے شور میں اپنی جان کو روتے ہیں
کس کس درد کو اپنائیں اور کس کس زخم کو سہلائیں
دیکھتی آنکھوں قدم قدم پر کئی حوادث ہوتے ہیں
دل کی دِلی لٹ گئی، آس کے ایوانوں میں غدر مچا
خودداری کے مغل شہزادے شہر میں ٹھلیا ڈھوتے ہیں

عجز بن اس کی سبھا میں کیا کسی کو چارہ تھا

عجز بِن اس کی سبھا میں کیا کسی کو چارہ تھا
واں تو ہر شوریدہ کے سر پر چمکتا آرہ تھا
ہائے وہ دن جب کسی فریاد پر قدغن نہ تھی
درد کی ہر لہر زخمہ اور میں اِکتارہ تھا
اس نے دل میں جھانکنے کی مجھ کو مہلت ہی نہ دی
شوخ کے طرزِ تکلم ہی میں کیا چٹخارہ تھا