حسن ہیرے کی کنی ہو جیسے
اور مِری جاں پہ بنی ہو جیسے
تیری چتون کے عجب تیور ہیں
سر پہ تلوار تنی ہو جیسے
ریزہ ریزہ ہوئے مینا و ایاغ
رِند و ساقی میں ٹھنی ہو جیسے
حسن ہیرے کی کنی ہو جیسے
اور مِری جاں پہ بنی ہو جیسے
تیری چتون کے عجب تیور ہیں
سر پہ تلوار تنی ہو جیسے
ریزہ ریزہ ہوئے مینا و ایاغ
رِند و ساقی میں ٹھنی ہو جیسے
جو دردِ دل کہو، آہستہ بولو
خوشی سے غم سہو آہستہ بولو
فغاں کرنا بھی جرم عاشقی ہے
بڑے چوکس رہو، آہستہ بولو
تمہاری آہ بھی ہے بار خاطر
تکلم کے شہو! آہستہ بولو
گرد اڑے یا کوئی آندھی ہی چلے
یہ امس تو کسی عنوان ٹلے
انگ پر زخم لیے خاک ملے
آن بیٹھے ہیں ترے محل تلے
اپنا گھر شہر خموشاں سا ہے
کون آئے گا یہاں شام ڈھلے
کارزارِ عشق و سر مستی میں نصرت یاب ہوں
وہ جنونی دار تک جانے کو جو بے تاب ہوں
کوہساروں پر سوا نیزے پہ سورج آئے تو
چوٹیوں کی برف پگھلے وادیاں سیراب ہوں
دوسرے ساحل پہ کوئی سوہنی ہو منتظر
ہم مہینوالوں کے آگے بحر بھی پایاب ہوں
فسوں ٹوٹتا ہے
یہ تجریدی خاکوں کی تصویر گہ ہے
مِرا منہ چِڑانے کو دیوار و در پر کئی مسخ پیکر ٹنگے ہیں
مجھے گھورتے ہیں، ڈراتے ہیں مجھ کو
میں ان سیدھی الٹی لکیروں کے دامِ ریا میں الجھ گیا ہوں
بالآخر فسونِ ریا ٹوٹتا ہے