Saturday, 5 December 2015

عجز بن اس کی سبھا میں کیا کسی کو چارہ تھا

عجز بِن اس کی سبھا میں کیا کسی کو چارہ تھا
واں تو ہر شوریدہ کے سر پر چمکتا آرہ تھا
ہائے وہ دن جب کسی فریاد پر قدغن نہ تھی
درد کی ہر لہر زخمہ اور میں اِکتارہ تھا
اس نے دل میں جھانکنے کی مجھ کو مہلت ہی نہ دی
شوخ کے طرزِ تکلم ہی میں کیا چٹخارہ تھا
شاہ کے دربار میں ٹوڈی کے سُر محبوس تھے
آہوئے دل اس گھڑی صحراؤں میں آوارہ تھا
حسن تیرا برگِ گل تھا یا پرِ طاؤس تھا
دل مِرا دینِ مبینِ عشق کا سیپارہ تھا
وصل اک لمحہ تھا لیکن نقش ہو کر رہ گیا
ورنہ کہنے کو غزالِ دشت کا طرارہ تھا
کتنے چاؤ سے کِیا تھا ہم نے آغازِ سفر
زادِ رہ معصوم آہوں کا اِک پُشتارہ تھا
گاؤں کو پرویزؔ نے تیاگا تو پھر لوٹا نہیں
ایک جھونکا تھا کوئی جوگی تھا بنجارہ تھا

افضل پرویز

No comments:

Post a Comment