خوش قسمت ہیں وہ جو گاؤں میں لمبی تان کے سوتے ہیں
ہم تو شب بھر شہر کے شور میں اپنی جان کو روتے ہیں
کس کس درد کو اپنائیں اور کس کس زخم کو سہلائیں
دیکھتی آنکھوں قدم قدم پر کئی حوادث ہوتے ہیں
دل کی دِلی لٹ گئی، آس کے ایوانوں میں غدر مچا
شام نے دن کا ساتھ چھڑایا، رات نے دشت میں آن لیا
ایسے سفر میں رہگیروں پر سانس بھی بھاری ہوتے ہیں
خوش لحنوں کے لیے گلشن بھی کنجِ قفس بن جائے تو
جبر کے گُن گاتے ہیں یا نغموں میں درد سموتے ہیں
میں تو اپنی جان پہ کھیل کے پیار کی بازی جیت گیا
قاتل ہار گئے جو اب تک خون کے چھینٹے دھوتے ہیں
دل کے زیاں کا سبب کیا پوچھو، ان طوفانوں کو دیکھو
جن کے بھنور ساحل کے سفینوں کو بھی آن ڈبوتے ہیں
پرویزؔ آج نہیں ملتی ہے خُم کے بھاؤ تلچھٹ بھی
اس پر طُرہ یہ ہے کہ ساقی نشترِ طعن چبھوتے ہیں
افضل پرویز
No comments:
Post a Comment