Saturday, 5 December 2015

خوش قسمت ہیں وہ جو گاؤں میں لمبی تان کے سوتے ہیں

خوش قسمت ہیں وہ جو گاؤں میں لمبی تان کے سوتے ہیں
ہم تو شب بھر شہر کے شور میں اپنی جان کو روتے ہیں
کس کس درد کو اپنائیں اور کس کس زخم کو سہلائیں
دیکھتی آنکھوں قدم قدم پر کئی حوادث ہوتے ہیں
دل کی دِلی لٹ گئی، آس کے ایوانوں میں غدر مچا
خودداری کے مغل شہزادے شہر میں ٹھلیا ڈھوتے ہیں
شام نے دن کا ساتھ چھڑایا، رات نے دشت میں آن لیا
ایسے سفر میں رہگیروں پر سانس بھی بھاری ہوتے ہیں
خوش لحنوں کے لیے گلشن بھی کنجِ قفس بن جائے تو
جبر کے گُن گاتے ہیں یا نغموں میں درد سموتے ہیں
میں تو اپنی جان پہ کھیل کے پیار کی بازی جیت گیا
قاتل ہار گئے جو اب تک خون کے چھینٹے دھوتے ہیں
دل کے زیاں کا سبب کیا پوچھو، ان طوفانوں کو دیکھو
جن کے بھنور ساحل کے سفینوں کو بھی آن ڈبوتے ہیں
پرویزؔ آج نہیں ملتی ہے خُم کے بھاؤ تلچھٹ بھی
اس پر طُرہ یہ ہے کہ ساقی نشترِ طعن چبھوتے ہیں

افضل پرویز

No comments:

Post a Comment