Showing posts with label مرزا رسوا. Show all posts
Showing posts with label مرزا رسوا. Show all posts

Thursday, 29 December 2016

دور گردوں ہے مجھے در در پھرانے کے لیے

دورِ گردوں ہے مجھے در در پھرانے کے لیے
میرے باعث سے ہوئی گردش زمانے کے لیے
بے نوائی ہو مقدر میں تو کیجے عاشقی
یہ بہانہ خوب ہے، ذِلت اٹھانے کے لیے
شامِ غم کی آفتیں اے دل! میں تجھ سے کیا کہوں
کون، کس کس، بھیس میں آیا ڈرانے کے لیے

عجب عالم ہے گلشن میں فضائے سبزہ و گل سے

عجب عالم ہے گلشن میں فضائے سبزہ و گل سے
کوئی جامِ زمرد گوہرِ یاقوت سے بھر دے
چمن میں صبح کو اٹھتے ہیں شعلے آتشِ گل سے
صبوحی کے لیے ہم کو بھی ساقی آتشِ تر دے
لہو کی بوند بھی اب چشمِ لاغر میں نہیں باقی
علاجِ ناتوانی کے لیے خونِ کبوتر دے

نہ پوچھو ہم سے کیونکر زندگی کے دن گزرتے ہیں

نہ پوچھو ہم سے کیونکر زندگی کے دن گزرتے ہیں
کسی بے درد کی فرقت میں جیتے ہیں نہ مرتے ہیں
کوئی ان سے کہے دل لے کے بھی یوں ہی مکر جانا
عدو کے سامنے جو گالیاں دے کر مکرتے ہیں
تماشا ہو جو ان کا بوسہ لے کر ہم مکر جائیں
بہت جو چاہنے والوں کا دل لے مکرتے ہیں

کل رات کو انہیں جو کہیں دیر ہو گئی

کل رات کو انہیں جو کہیں دیر ہو گئی
دنیا ہماری آنکھوں میں اندھیر ہو گئی
بیہودہ خواہشوں نے نہ جینے دیا ہمیں
ان موذیوں سے عقل اگر زیر ہو گئی
اے موت! تجھ کو کیا ہوا تُو ہی بلا سے آ
ان کو تو آتے آتے بڑی دیر ہو گئی

Tuesday, 27 December 2016

لڑ کے جاتے ہو تو ایک تیغ لگاتے جاؤ

لڑ کے جاتے ہو تو ایک تیغ لگاتے جاؤ
ہاتھ اٹھاتے ہو تو یوں ہاتھ اٹھاتے جاؤ
وعدۂ شام کرو، صبح کو جاتے ہو اگر
کوئی بے وقت جو سوئے تو جگاتے جاؤ
کہیں بدنام نہ ہو جاؤ پشیماں کیوں ہو
ہاتھ ملتے ہو تو مہندی بھی لگاتے جاؤ

چارہ گر مشورۂ ترک وفا دیتے ہیں

چارہ گر مشورۂ ترکِ وفا دیتے ہیں
زہر دیتے ہیں یہ ظالم کہ دوا دیتے ہیں
مجھ کو یہ خوف کہ تم بھی کہیں ان میں سے نہ ہو
چاہنے والے کو جو لوگ دغا دیتے ہیں
کان تک اس کے نہ پہنچے تو نہ پہنچے فریاد
سننے والوں کا کلیجا تو پکا دیتے ہیں

برے یا بھلے لہو رونے والے

برے یا بھلے لہو رونے والے
یہی لوگ ہیں سرخرو ہونے والے
تہِ چرخ برپا ہوئے حشر کیا کیا
مزاروں میں سویا کیے سونے والے
زہے خوش نصیبی شہیدانِ غم کی
مزاروں سے ہنستے اٹھے رونے والے

Friday, 11 November 2016

راحتیں طول مرض کی صرف درماں ہو گئیں

راحتیں طولِ مرض کی صَرفِ درماں ہو گئیں
زندگی جن مشکلوں سے تھی وہ آساں ہو گئیں
صورتیں امید کی خوابِ پریشاں ہو گئیں
سامنے آنکھوں کے آئیں اور پنہاں ہو گئیں
ان سے کیا لطفِ تعلق ان سے کیا دل بستگی
غیر کے ماتم میں جو زلفیں پریشاں ہو گئیں

جسے ہو حسن ظن تم سے کسی سے بدگماں کیوں ہو

جسے ہو حسنِ ظن تم سے کسی سے بدگماں کیوں ہو
تمہارے عہد میں بدنام دورِ آسماں کیوں ہو
کسی پر جان جاتی ہے تو ضبط شوق مشکل ہے
نہ ہو قابو اگر دل پر تو کہنے میں زباں کیوں ہو
جو دل مطلوب ہے اچھا یہ تمہید وفا کیسی
ستم مقصود ہے بہتر، فریب امتحاں کیوں ہو

نگاہ مہر ہے عالم کے اجزائے پریشاں پر

نگاہِ مہر ہے عالم کے اجزائے پریشاں پر
ہر اک ذرے کا حق ثابت ہے خورشیدِ درخشاں پر
فنا کے بعد بھی چھوٹا نہ میں قیدِ تعلق سے
مِری تصویر کھنچوائی گئی دیوارِ زنداں پر
بہل ہی جائے گا دل شہر کی گلیوں میں اے ناصح
نہیں آوارگی موقوف کچھ سیرِ بیاباں پر