تخریبِ باغباں کی حقیقت چُھپی رہی
جب تک نقاب گُل کی چمن پر پڑی رہی
اُمید ناخُداؤں سے جب تک بندھی رہی
تب تک ہماری ناؤ بھنور میں پڑی رہی
جو جبر و اختیار کے بس میں پڑی رہی
کہیے وہ زندگی بھی کوئی زندگی رہی
تخریبِ باغباں کی حقیقت چُھپی رہی
جب تک نقاب گُل کی چمن پر پڑی رہی
اُمید ناخُداؤں سے جب تک بندھی رہی
تب تک ہماری ناؤ بھنور میں پڑی رہی
جو جبر و اختیار کے بس میں پڑی رہی
کہیے وہ زندگی بھی کوئی زندگی رہی
بسی خیال میں اب تیری جلوہ گاہ تو ہے
بلا سے آنکھ نہیں ہے مگر نگاہ تو ہے
ہزار شکر عنایت کی اک نگاہ تو ہے
جو روز روز نہیں اب وہ گاہ گاہ تو ہے
حریمِ کعبہ کو گر میں پہونچ سکتا
مگر بُتوں ہی سے اک گونہ رسم و راہ تو ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
بُلند تر ہے فلک سے وقارِ کُوئے رسولﷺ
نہ کیوں ہو عرش نشیں خاکسارِ سُوئے رسولﷺ
بہ التجا متمنی ہے چند پھولوں کی
بہارِ خُلد نے دیکھی بہار کوئے رسولﷺ
وہ خاک رہتی ہے تاصبح کہکشاں بہ کنار
جہاں پہ خاک ہو خاکسارِ کوئے رسولﷺ
وہ ابروئے خمدار بدلی ہوئی ہے
دِلوں کی طلبگار بدلی ہوئی ہے
قدم کو مِلا کر چلو ساتھ اس کے
زمانے کی رفتار بدلی ہوئی ہے
اسیروں کے انداز ناگُفتنی ہیں
سلاسل کی جھنکار بدلی ہوئی ہے