حقیقت مان جانے میں ابھی کچھ دن لگیں گے
اسے یکسر بھلانے میں ابھی کچھ دن لگیں گے
ابھی تو غم کی بھٹی میں یہ مٹی تپ رہی ہے
یہ دل پتھر بنانے میں ابھی کچھ دن لگیں گے
ابھی تو شاخ ٹوٹی ہے، ابھی یہ زخم تازہ ہے
نئی کونپل کے آنے میں ابھی کچھ دن لگیں گے
ذرا چہرے سےغم کی دھوپ اتری ہے مگر حاطب
لبوں کو مسکرانے میں ابھی کچھ دن لگیں گے
حاطب صدیقی
No comments:
Post a Comment