زمین ٹھیک ہے اور آسماں مناسب ہے
جو تُو یہاں ہے تو پھر یہ جہاں مناسب ہے
ابھی سے ڈال دے تُو کشتیاں سمندر میں
ابھی سکون ہے، آب رواں مناسب ہے
مجھے تُو مانگ دعاؤں کی اس بلندی سے
جہاں سے میں بھی کہوں ہاں یہاں مناسب ہے
بس ایک ضد کو نبھانا ہے عمر بھر میں نے
وگرنہ، تجھ سے محبت کہاں مناسب ہے
عماد اظہر
No comments:
Post a Comment