Showing posts with label اقبال شارب. Show all posts
Showing posts with label اقبال شارب. Show all posts

Thursday, 14 August 2025

خون دل لفظوں سے بہہ نکلے کلام ایسا تو ہو

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


خونِ دل لفظوں سے بہہ نکلے کلام ایسا تو ہو

شعر میرا گنگنائیں خاص و عام ایسا تو ہو

چھوڑ کر امت نہ جو بھاگے امام ایسا تو ہو

مشکلیں جتنی پڑیں سب کر لے رام ایسا تو ہو

منہ سے تو ساحر کہیں لیکن امانت کے طفیل

ذہن و دل دونوں جھکیں خیرالانامﷺ ایسا تو ہو

Wednesday, 21 May 2025

وہ زخم دے کے مجھے اندمال پوچھے گا

 وہ زخم دے کے مجھے اندمال پُوچھے گا

تڑپتے دیکھے گا اور میرا حال پوچھے گا

مِری تو جتنی بھی گُزری ہے ہجر میں گُزری

تو مجھ سے کیا کوئی لُطفِ وِصال پوچھے گا

وہ جس کی چاہ میں سب کچھ لُٹا دیا میں نے

وہی تو زیست کا حاصل مآل پوچھے گا

Monday, 21 October 2024

تیرا ممدوح بھی دنیا میں ترا مرسل بھی

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


تیرا ممدوح بھی دنیا میں تِرا مرسلﷺ بھی

حمد کرتا ہے جو کل نبیوں میں ہے افضل بھی

رحمتوں سے تِری کافر بھی اٹھاتے ہیں فیوض

رحمتیں تیری ہیں انساں کے لیے مشعل بھی

دو عدد پاؤں نے جینا مِرا با معنی کیا

دیکھا مکّہ بھی، مدینہ بھی، نجف، کربل بھی

Tuesday, 15 October 2024

میری کمیوں کا تماشہ نہیں ہونے دیتا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


میری کمیوں کا تماشہ نہیں ہونے دیتا

میرا مولا مجھے رُسوا نہیں ہونے دیتا

دل میں ایک نُور جگا دیتا ہے عشق احمدﷺ

شِرک و باطل کا اندھیرا نہیں ہونے دیتا

دُشمن آلؑ نبیﷺ بخت کا مارا ٹھہرا

اپنی فکروں میں اُجالا نہیں ہونے دیتا

Monday, 14 October 2024

وہ ہم خیال نہیں پھر بھی ساتھ چلتا ہے

 وہ ہم خیال نہیں پھر بھی ساتھ چلتا ہے

یہی تضاد تو جیون میں رنگ بھرتا ہے

میں اس کی رائے سے کچھ اتنا مطمئن بھی نہیں

مُہر بہ لب ہوں کہ سِکہ اسی کا چلتا ہے

میں اک چراغ تھا طوفاں سے دوستی کر لی

خِرد نہ سمجھے اسے پر جنوں سمجھتا ہے