Showing posts with label فگار اناوی. Show all posts
Showing posts with label فگار اناوی. Show all posts

Wednesday, 9 August 2023

طوفاں سے بچ کے دامن ساحل میں رہ گیا

 طوفاں سے بچ کے دامنِ ساحل میں رہ گیا

مشکل کے بعد اور بھی مشکل میں رہ گیا

اک شور تھا جو گوشۂ محفل میں رہ گیا

اک درد تھا جو دل سے اٹھا دل میں رہ گیا

اب وہ نگاہِ ناز ہوئی مائلِ کرم

جب کوئی مدعا نہ مِرے دل میں رہ گیا

Friday, 25 February 2022

کچھ کام تو آیا دل ناکام ہمارا

 کچھ کام تو آیا دل ناکام ہمارا

ٹوٹا ہے تو ٹوٹا ہی سہی جام ہمارا

جتنا اسے سمجھا کئے بےگانۂ تاثیر

اتنا تو نہ تھا جذبۂ دل خام ہمارا

یہ کون مقام آیا قدم اٹھتے نہیں ہیں

منزل پہ ٹھہرنا تو نہ تھا کام ہمارا

Monday, 7 February 2022

کسی اپنے سے ہوتی ہے نہ بیگانے سے ہوتی ہے

 کسی اپنے سے ہوتی ہے نہ بیگانے سے ہوتی ہے

جو الفت ایک دیوانے کو دیوانے سے ہوتی ہے

سبو سے جام سے مینا سے پیمانے سے ہوتی ہے

محبت مے سے ہو کر سارے مے خانے سے ہوتی ہے

کوئی قصہ ہو، کوئی واقعہ، کوئی حکایت ہو

تسلی دل کو درد دل کے افسانے سے ہوتی ہے

Friday, 31 December 2021

تم حریم ناز میں بیٹھے ہو بیگانے بنے

 تم حریم ناز میں بیٹھے ہو بے گانے بنے

جستجو میں اہل دل پھرتے ہیں دیوانے بنے

سب کو ساقی نے نہیں بخشا دل درد آشنا

جتنے اہل ظرف تھے اتنے ہی پیمانے بنے

جلوۂ حسن اور سوز عشق دونوں ایک ہیں

شمع کی لو تھرتھرانے ہی سے پروانے بنے

Wednesday, 22 December 2021

جرأت عشق ہوس کار ہوئی جاتی ہے

 جرأت عشق ہوس کار ہوئی جاتی ہے

بے پیے توبہ گنہ گار ہوئی جاتی ہے

دل ہے افسردہ تو بے رنگ ہے ہر رنگِ بہار

بُوئے گُل بھی خلشِ خار ہوئی جاتی ہے

باوجودیکہ جنوں پر ہیں خِرد کے پہرے

پھر بھی زنجیر کی جھنکار ہوئی جاتی ہے

Tuesday, 21 December 2021

غم جاناں سے رنگیں اور کوئی غم نہیں ہوتا

 غمِ جاناں سے رنگیں اور کوئی غم نہیں ہوتا

کہ اس کے درد میں احساسِ بیش و کم نہیں ہوتا

وہ ہیں کم ظرف جن کا شورِ نالہ کم نہیں ہوتا

چمن میں پھول بھی تو ہیں انہیں کیا غم نہیں ہوتا

کمالِ ضبطِ گریہ، عظمتِ شانِ محبت ہے

چھلک جائے جو پیمانہ وہ جامِ جم نہیں ہوتا

Monday, 21 June 2021

جفائے یار کو ہم لطف یار کہتے ہیں

 جفائے یار کو ہم لطفِ یار کہتے ہیں

خزاں کو اپنی زباں میں بہار کہتے ہیں

وہ ایک سنتے نہیں ہم ہزار کہتے ہیں

مگر فسانہ بہر اعتبار کہتے ہیں

زمانہ قید کو سمجھے ہوئے ہے آزادی

کسی کے جبر کو ہم اختیار کہتے ہیں