طوفاں سے بچ کے دامنِ ساحل میں رہ گیا
مشکل کے بعد اور بھی مشکل میں رہ گیا
اک شور تھا جو گوشۂ محفل میں رہ گیا
اک درد تھا جو دل سے اٹھا دل میں رہ گیا
اب وہ نگاہِ ناز ہوئی مائلِ کرم
جب کوئی مدعا نہ مِرے دل میں رہ گیا
طوفاں سے بچ کے دامنِ ساحل میں رہ گیا
مشکل کے بعد اور بھی مشکل میں رہ گیا
اک شور تھا جو گوشۂ محفل میں رہ گیا
اک درد تھا جو دل سے اٹھا دل میں رہ گیا
اب وہ نگاہِ ناز ہوئی مائلِ کرم
جب کوئی مدعا نہ مِرے دل میں رہ گیا
کچھ کام تو آیا دل ناکام ہمارا
ٹوٹا ہے تو ٹوٹا ہی سہی جام ہمارا
جتنا اسے سمجھا کئے بےگانۂ تاثیر
اتنا تو نہ تھا جذبۂ دل خام ہمارا
یہ کون مقام آیا قدم اٹھتے نہیں ہیں
منزل پہ ٹھہرنا تو نہ تھا کام ہمارا
کسی اپنے سے ہوتی ہے نہ بیگانے سے ہوتی ہے
جو الفت ایک دیوانے کو دیوانے سے ہوتی ہے
سبو سے جام سے مینا سے پیمانے سے ہوتی ہے
محبت مے سے ہو کر سارے مے خانے سے ہوتی ہے
کوئی قصہ ہو، کوئی واقعہ، کوئی حکایت ہو
تسلی دل کو درد دل کے افسانے سے ہوتی ہے
تم حریم ناز میں بیٹھے ہو بے گانے بنے
جستجو میں اہل دل پھرتے ہیں دیوانے بنے
سب کو ساقی نے نہیں بخشا دل درد آشنا
جتنے اہل ظرف تھے اتنے ہی پیمانے بنے
جلوۂ حسن اور سوز عشق دونوں ایک ہیں
شمع کی لو تھرتھرانے ہی سے پروانے بنے
جرأت عشق ہوس کار ہوئی جاتی ہے
بے پیے توبہ گنہ گار ہوئی جاتی ہے
دل ہے افسردہ تو بے رنگ ہے ہر رنگِ بہار
بُوئے گُل بھی خلشِ خار ہوئی جاتی ہے
باوجودیکہ جنوں پر ہیں خِرد کے پہرے
پھر بھی زنجیر کی جھنکار ہوئی جاتی ہے
غمِ جاناں سے رنگیں اور کوئی غم نہیں ہوتا
کہ اس کے درد میں احساسِ بیش و کم نہیں ہوتا
وہ ہیں کم ظرف جن کا شورِ نالہ کم نہیں ہوتا
چمن میں پھول بھی تو ہیں انہیں کیا غم نہیں ہوتا
کمالِ ضبطِ گریہ، عظمتِ شانِ محبت ہے
چھلک جائے جو پیمانہ وہ جامِ جم نہیں ہوتا
جفائے یار کو ہم لطفِ یار کہتے ہیں
خزاں کو اپنی زباں میں بہار کہتے ہیں
وہ ایک سنتے نہیں ہم ہزار کہتے ہیں
مگر فسانہ بہر اعتبار کہتے ہیں
زمانہ قید کو سمجھے ہوئے ہے آزادی
کسی کے جبر کو ہم اختیار کہتے ہیں