Wednesday, 22 December 2021

جرأت عشق ہوس کار ہوئی جاتی ہے

 جرأت عشق ہوس کار ہوئی جاتی ہے

بے پیے توبہ گنہ گار ہوئی جاتی ہے

دل ہے افسردہ تو بے رنگ ہے ہر رنگِ بہار

بُوئے گُل بھی خلشِ خار ہوئی جاتی ہے

باوجودیکہ جنوں پر ہیں خِرد کے پہرے

پھر بھی زنجیر کی جھنکار ہوئی جاتی ہے

ہر نفس موجِ فنا تیرے تھپیڑوں کے طفیل

کشتئ عمرِ رواں پار ہوئی جاتی ہے

جو نماز آج سرِ دار ادا کی میں نے

سجدۂ شکر کا معیار ہوئی جاتی ہے

جتنی آسانیاں ہوتی ہیں فراہم دن رات

زندگی اتنی ہی دشوار ہوئی جاتی ہے

جب سے دیکھا ہے کسی کے رُخِ روشن کو فگار

آنکھ ہر جلوے سے بیزار ہوئی جاتی ہے


فگار اناوی

No comments:

Post a Comment