Showing posts with label نفیس تقی. Show all posts
Showing posts with label نفیس تقی. Show all posts

Wednesday, 2 September 2026

جاہ و منصب ہے نہ اب حشمت سلطانی ہے

 جاہ و منصب ہے نہ اب حشمتِ سُلطانی ہے

اس تباہی کا سبب اپنی ہی نادانی ہے

آہ وہ لمحے کہ جو خوابِ گِراں میں گُزرے

جن کی تعبیر میں صدیوں کی پشیمانی ہے

ایک سنّاٹے کا احساس تھا وہ بھی نہ رہا

دل کی دُنیا میں عجب طرح کی وِیرانی ہے

Thursday, 16 January 2025

لفظ و معنی میں سماوات سے خوشبو آئی

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


لفظ و معنی میں سماوات سے خوشبو آئی

یعنی قرآن کی آیات سے خوشبو آئی

بیعت حق سے کھلے پھول مہکنے والے

دستِ اطہر کی عنایات سے خوشبو آئی

حرف نے سیکھ لیا لب سے معطر ہونا

آپؐ کی طرز مناجات سے خوشبو آئی

Wednesday, 8 January 2025

غم نصیبوں کو بھی عنوان حکایات کریں

 غم نصیبوں کو بھی عنوان حکایات کریں

آؤ کچھ تذکرۂ اہلِ خرابات کریں

ایک مدت سے ہمیں اپنا پتہ ہے درکار

غم سے پائیں جو مفر خود سے ملاقات کریں

ذکر تیرا سحر آثار نظاروں سے رہے

شام آئے تو ستاروں سے تِری بات کریں

Friday, 6 December 2024

اللہ رے جلووں کا اثر کیسا لگے گا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


اللہ رے جلووں کا اثر کیسا لگے گا

اے کعبۂ دیں! تیرا نگر کیسا لگے گا

بتلا تو سہی راہ گزر کیسا لگے گا

طیبہ کے مسافر کا سفر کیسا لگے گا

دیکھیں تو سہی ریت کی دیوار اٹھا کر

آشفتہ مزاجوں کا ہنر کیسا لگے گا

Thursday, 5 December 2024

ہر کسی در پہ کہاں سجدہ روا رکھتے ہیں

 ہر کسی در پہ کہاں سجدہ روا رکھتے ہیں

ہم مؤحد ہیں، فقط ایک خدا رکھتے ہیں

وہ کڑی دھوپ میں رحمت کی گھٹا رکھتے ہیں

سر پہ ماں باپ کی جو لوگ دعا رکھتے ہیں

داغ دامن پر نہیں نقشِ وفا رکھتے ہیں

ہم محبانِ وطن اُجلی قبا رکھتے ہیں