جاہ و منصب ہے نہ اب حشمتِ سُلطانی ہے
اس تباہی کا سبب اپنی ہی نادانی ہے
آہ وہ لمحے کہ جو خوابِ گِراں میں گُزرے
جن کی تعبیر میں صدیوں کی پشیمانی ہے
ایک سنّاٹے کا احساس تھا وہ بھی نہ رہا
دل کی دُنیا میں عجب طرح کی وِیرانی ہے
جاہ و منصب ہے نہ اب حشمتِ سُلطانی ہے
اس تباہی کا سبب اپنی ہی نادانی ہے
آہ وہ لمحے کہ جو خوابِ گِراں میں گُزرے
جن کی تعبیر میں صدیوں کی پشیمانی ہے
ایک سنّاٹے کا احساس تھا وہ بھی نہ رہا
دل کی دُنیا میں عجب طرح کی وِیرانی ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
لفظ و معنی میں سماوات سے خوشبو آئی
یعنی قرآن کی آیات سے خوشبو آئی
بیعت حق سے کھلے پھول مہکنے والے
دستِ اطہر کی عنایات سے خوشبو آئی
حرف نے سیکھ لیا لب سے معطر ہونا
آپؐ کی طرز مناجات سے خوشبو آئی
غم نصیبوں کو بھی عنوان حکایات کریں
آؤ کچھ تذکرۂ اہلِ خرابات کریں
ایک مدت سے ہمیں اپنا پتہ ہے درکار
غم سے پائیں جو مفر خود سے ملاقات کریں
ذکر تیرا سحر آثار نظاروں سے رہے
شام آئے تو ستاروں سے تِری بات کریں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
اللہ رے جلووں کا اثر کیسا لگے گا
اے کعبۂ دیں! تیرا نگر کیسا لگے گا
بتلا تو سہی راہ گزر کیسا لگے گا
طیبہ کے مسافر کا سفر کیسا لگے گا
دیکھیں تو سہی ریت کی دیوار اٹھا کر
آشفتہ مزاجوں کا ہنر کیسا لگے گا
ہر کسی در پہ کہاں سجدہ روا رکھتے ہیں
ہم مؤحد ہیں، فقط ایک خدا رکھتے ہیں
وہ کڑی دھوپ میں رحمت کی گھٹا رکھتے ہیں
سر پہ ماں باپ کی جو لوگ دعا رکھتے ہیں
داغ دامن پر نہیں نقشِ وفا رکھتے ہیں
ہم محبانِ وطن اُجلی قبا رکھتے ہیں