Showing posts with label وصفی بہرائچی. Show all posts
Showing posts with label وصفی بہرائچی. Show all posts

Saturday, 9 July 2022

دل ان کی محبت کا جو دیوانہ لگے ہے

 دل ان کی محبت کا جو دیوانہ لگے ہے

یہ ایسی حقیقت ہے جو افسانہ لگے ہے

عالم نہ کوئی پوچھے مِری وحشت دل کا

گھر اپنے اگر جاؤں تو ویرانہ لگے ہے

بڑھتے نہیں کیوں میرے قدم آگے کی جانب

نزدیک ہی شاید درِ جانانہ لگے ہے

Monday, 8 November 2021

جیت کر بازئ الفت کو بھی ہارا جائے

 جیت کر بازئ الفت کو بھی ہارا جائے

اس طرح حسن کو شیشے میں اتارا جائے

اب تو حسرت ہے کہ برباد کیا ہے جس نے

اس کا دیوانہ مجھے کہہ کے پکارا جائے

آپ کے حسن کی توصیف سے مقصد ہے مِرا

نقشِ فطرت کو ذرا اور اُبھارا جائے

Sunday, 17 October 2021

محبت کا جسے عرفاں نہیں ہے

 محبت کا جسے عرفاں نہیں ہے

وہ سب کچھ ہے مگر انساں نہیں ہے

شعورِ زندگی پر مٹنے والو

شعورِ زندگی آساں نہیں ہے

طلب کا ہاتھ بڑھتا جا رہا ہے

خیالِ وسعتِ داماں نہیں ہے

یوں اشک برستے ہیں مرے دیدۂ تر سے

 یوں اشک برستے ہیں مِرے دیدۂ تر سے

جس طرح سے ساون کی گھٹا جھوم کے برسے

ہاں اشکِ ندامت جو گِرے دیدۂ تر سے

وہ دامنِ عصیاں پہ نظر آئے گہر سے

ماحول تو بدلا ہے مِری جہد نے اکثر

ہاں میں نہیں بدلا کبھی ماحول کے ڈر سے

Friday, 14 May 2021

کیا کیا سپرد خاک ہوئے نامور تمام

 کیا کیا سپرد خاک ہوئے نامور تمام

اک روز سب کو کرنا ہے اپنا سفر تمام

میری نظر نے لوٹ لیے جلوہ ہائے حسن

حسرت سے دیکھتے ہی رہے دیدہ ور تمام

تم نے تو اپنا کہہ کے مجھے لوٹ ہی لیا

ماتم کناں ہے میرے لیے گھر کا گھر تمام

Friday, 7 May 2021

غم سے گھبرا کے کبھی نالہ و فریاد نہ کر

 غم سے گھبرا کے کبھی نالہ و فریاد نہ کر

عزتِ نفس کسی حال میں برباد نہ کر

دل یہ کہتا ہے کہ دے اینٹ کا پتھر سے جواب

جو تجھے بھُولے اسے تو بھی کبھی یاد نہ کر

توڑ دے بندِ قفس کچھ بھی اگر ہمت ہے

اک رہائی کے لیے منتِ صیاد نہ کر

Monday, 29 March 2021

جیت کر بازی الفت کو بھی ہارا جائے

 جیت کر بازئ الفت کو بھی ہارا جائے

اس طرح حسن کو شیشے میں اتارا جائے

اب تو حسرت ہے کہ برباد کیا ہے جس نے

اس کا دیوانہ مجھے کہہ کے پکارا جائے

آپ کے حسن کی توصیف سے مقصد ہے مِرا

نقشِ فطرت کو ذرا اور ابھارا جائے

Tuesday, 12 January 2021

کرتے نہیں جفا بھی وہ ترک وفا کے ساتھ

 کرتے نہیں جفا بھی وہ ترکِ وفا کے ساتھ

یہ کون سا ستم ہے دلِ مبتلا کے ساتھ

اب وہ جبینِ شوق کہیں اور کیوں جھکے

وابستہ ہو گئی جو تِرے نقشِ پا کے ساتھ

وارفتۂ جمال کا عالم نہ پوچھئے💖

دیوانہ وار اٹھتی ہیں نظریں صدا کے ساتھ