دل ان کی محبت کا جو دیوانہ لگے ہے
یہ ایسی حقیقت ہے جو افسانہ لگے ہے
عالم نہ کوئی پوچھے مِری وحشت دل کا
گھر اپنے اگر جاؤں تو ویرانہ لگے ہے
بڑھتے نہیں کیوں میرے قدم آگے کی جانب
نزدیک ہی شاید درِ جانانہ لگے ہے
دل ان کی محبت کا جو دیوانہ لگے ہے
یہ ایسی حقیقت ہے جو افسانہ لگے ہے
عالم نہ کوئی پوچھے مِری وحشت دل کا
گھر اپنے اگر جاؤں تو ویرانہ لگے ہے
بڑھتے نہیں کیوں میرے قدم آگے کی جانب
نزدیک ہی شاید درِ جانانہ لگے ہے
جیت کر بازئ الفت کو بھی ہارا جائے
اس طرح حسن کو شیشے میں اتارا جائے
اب تو حسرت ہے کہ برباد کیا ہے جس نے
اس کا دیوانہ مجھے کہہ کے پکارا جائے
آپ کے حسن کی توصیف سے مقصد ہے مِرا
نقشِ فطرت کو ذرا اور اُبھارا جائے
محبت کا جسے عرفاں نہیں ہے
وہ سب کچھ ہے مگر انساں نہیں ہے
شعورِ زندگی پر مٹنے والو
شعورِ زندگی آساں نہیں ہے
طلب کا ہاتھ بڑھتا جا رہا ہے
خیالِ وسعتِ داماں نہیں ہے
یوں اشک برستے ہیں مِرے دیدۂ تر سے
جس طرح سے ساون کی گھٹا جھوم کے برسے
ہاں اشکِ ندامت جو گِرے دیدۂ تر سے
وہ دامنِ عصیاں پہ نظر آئے گہر سے
ماحول تو بدلا ہے مِری جہد نے اکثر
ہاں میں نہیں بدلا کبھی ماحول کے ڈر سے
کیا کیا سپرد خاک ہوئے نامور تمام
اک روز سب کو کرنا ہے اپنا سفر تمام
میری نظر نے لوٹ لیے جلوہ ہائے حسن
حسرت سے دیکھتے ہی رہے دیدہ ور تمام
تم نے تو اپنا کہہ کے مجھے لوٹ ہی لیا
ماتم کناں ہے میرے لیے گھر کا گھر تمام
غم سے گھبرا کے کبھی نالہ و فریاد نہ کر
عزتِ نفس کسی حال میں برباد نہ کر
دل یہ کہتا ہے کہ دے اینٹ کا پتھر سے جواب
جو تجھے بھُولے اسے تو بھی کبھی یاد نہ کر
توڑ دے بندِ قفس کچھ بھی اگر ہمت ہے
اک رہائی کے لیے منتِ صیاد نہ کر
جیت کر بازئ الفت کو بھی ہارا جائے
اس طرح حسن کو شیشے میں اتارا جائے
اب تو حسرت ہے کہ برباد کیا ہے جس نے
اس کا دیوانہ مجھے کہہ کے پکارا جائے
آپ کے حسن کی توصیف سے مقصد ہے مِرا
نقشِ فطرت کو ذرا اور ابھارا جائے
کرتے نہیں جفا بھی وہ ترکِ وفا کے ساتھ
یہ کون سا ستم ہے دلِ مبتلا کے ساتھ
اب وہ جبینِ شوق کہیں اور کیوں جھکے
وابستہ ہو گئی جو تِرے نقشِ پا کے ساتھ
وارفتۂ جمال کا عالم نہ پوچھئے💖
دیوانہ وار اٹھتی ہیں نظریں صدا کے ساتھ