Tuesday, 12 January 2021

کرتے نہیں جفا بھی وہ ترک وفا کے ساتھ

 کرتے نہیں جفا بھی وہ ترکِ وفا کے ساتھ

یہ کون سا ستم ہے دلِ مبتلا کے ساتھ

اب وہ جبینِ شوق کہیں اور کیوں جھکے

وابستہ ہو گئی جو تِرے نقشِ پا کے ساتھ

وارفتۂ جمال کا عالم نہ پوچھئے💖

دیوانہ وار اٹھتی ہیں نظریں صدا کے ساتھ

سرخی تمہارے ہاتھ کی کہتی ہے صاف صاف

شامل ہے میرے دل کا لہو بھی حنا کے ساتھ

تکمیلِ آرزو کی خوشی اور غمِ حیات

دونوں ہی ابتدا سے رہے انتہا کے ساتھ

شامل مِری حیات میں یوں ہے غمِ حیات

جیسے خبر ہو اپنے کسی مبتدا کے ساتھ

وصفی مِری حیات نے منزل کو پا لیا

کچھ دن گزار آیا جو اک پارسا کے ساتھ


واصفی بہرائچی

No comments:

Post a Comment