دل کی ہر بات مان لی ہم نے
تجھ کو پانے کی ٹھان لی ہم نے
شہر کی وحشتوں سے گھبرا کر
چادرِ دشت تان لی ہم نے
ایک دُوجے سے چاہتوں کے عِوض
عمر بھر کی تھکان لی ہم نے
بیچ کر دشمنوں کو سارے تیر
ایک خالی کمان لی ہم نے
شاید اک روز اس میں دب جائیں
کوئلے کی جو کان لی ہم نے
جب تماشے کو گرم ہونا تھا
مہلت اک درمیان لی ہم نے
لوگ جگنو پکڑ نہ پائے جب
اڑ کے اک کہکشان لی ہم نے
آفتیں روز کر رہی ہیں سلام
غم کی گویا دُکان لی ہم نے
شب اسے بھولنے کی کوشش کی
تھک کے اپنی ہی جان لی ہم نے
ہو کے غالب سے آشنا فرحت
پھر نشاط زبان لی ہم نے
فرحت حسنی
No comments:
Post a Comment