Tuesday, 12 January 2021

چلو کچھ دور چلتے ہیں کسی سنسان رستے پر

 چلو کچھ دور چلتے ہیں

کسی سنسان رستے پر

کسی ویران وادی میں

کسی جنگل کے گوشے میں

جہاں کچھ بھی نہیں ہوتا

جہاں کوئی نہیں رہتا

ہوائیں سنسناتی ہیں

فضائیں گنگناتی ہیں

نگر کوئی تو ایسا ہو

جہاں شفاف چشمے ہوں

کہ یوں لہروں میں بہتے ہوں

سطر میں درد لکھتے ہوں

بنے ہوں بیل کے جھولے

بٹھا کر تم کو میں ان میں

جھُلاؤں جھُولا جانِ جاں

ہوا کے دوش پر اڑنا

تمہاری کب سے چاہت تھی

ستارے، چاند لانے کا

میں دعویٰ تو نہیں کرتا

مگر یہ چاہتا ہوں بس

کہ جیون کو تمہارے میں

کروں معمور خوشیوں سے

کسی جنت میں لے جاؤں

جہاں پر غم نہ کوئی ہو

جہاں گونجے ہنسی تیری

نہ تیری آنکھ پرُ نم ہو

یہ سن کر مسکراتی تم

مِرے سینے سے لگ جاتی

ذرا دھیمے سے یہ کہتی

میری چاہت میری راحت

نہ جگنو، پھول کلیاں ہیں

نہ سورج، چاند تارے ہیں

میری بس آرزو یہ ہے

تُو دیکھے بس مِری راہیں

مِرا گھر ہو تِری بانہیں

چلو پھر گھر بسانے کو

محبت آزمانے کو

ذرا سا دور چلتے ہیں

کسی سنسان رستے پر

کسی ویران وادی میں


عمیر قریشی

No comments:

Post a Comment