Showing posts with label زین اشعر. Show all posts
Showing posts with label زین اشعر. Show all posts

Wednesday, 1 November 2023

میری بصارتیں پچھلے تیس گھنٹوں سے بھوکی ہیں

 ‏التماس 


تمہیں پتہ ہے

میری بصارتیں پچھلے

تیس گھنٹوں سے بھوکی ہیں

اٹھارہ سو منٹ ہونے کو آئے

میری آنکھوں میں تم نہیں اتری

میری نظروں کی صحنک کو

Wednesday, 30 March 2022

محبت کی دوا میں محبت کا ہی دارو چلتا ہے

 اے زمانے کے خداؤ

میں تمہارے ہر فیصلے کے خلاف 

بغاوت کا علم بلند کرتا ہوں

میں صرف اور صرف محبت کا علم بلند کروں گا 

میں ان پُرسان حال لوگوں کا مسیحا بنوں گا

جو پل پل لمحہ لمحہ گُھٹ گُھٹ کر جی رہے ہیں 

Tuesday, 15 June 2021

اے بصر حیات تمہارا نظروں سے اوجھل ہونا

 تلازم


اے بصرِ حیات

تمہارا نظروں سے اوجھل ہونا بہت سی الجھنوں

میں ڈال دینے کے لیے مجھے کافی ہے 

تمہارے سامنے رہنے سے ہر منظر پر رونق رہتی ہے

ہر منظر حسین دکھائی دیتا ہے

Monday, 14 June 2021

میری بے نور رنگت کو اپنے نور کا پیراہن دو

 اے عکسِ نور


میری بے نور رنگت کو اپنے نور کا پیراہن دو

تاکہ میں خود پر تمہیں طاری کر سکوں

اے عکسِ افگن

خدارا مجھ پر اپنے عکس جمال کی اک جھلک ڈالو

تاکہ میرے بے رونق وجود کو تازگی مل سکے

Sunday, 13 June 2021

گلاب حیرت زدہ ہیں

 احمرین


گلاب حیرت زدہ ہیں

قوسِ قزح سے شفق رنگ غائب ہو چکا ہے

دھرتی پر موجود سبھی سُرخ تتلیاں جلن 

سے بے حال ہیں

یہ سب بھلا کیونکر ہے 

آپ کا کوئی بھی تعلق اتنا مضبوط ہونا چاہیے

 بات پتے کی ہے


آپ کا کوئی بھی تعلق اتنا مضبوط ہونا چاہیے کہ

آپ جب چاہیں رابطہ بحال کر سکیں 

کوئی مجبوری کوئی دیوار راستے میں حائل نا ہو سکے

کیونکہ انتظار کی کیفیت آپ کے دل کو لمحہ با لمحہ 

جھلساتی رہتی ہے

Saturday, 12 June 2021

اے محرم اسرار میں نے تمہیں دیکھا

 اے محرمِ اسرار


میں نے تمہیں دیکھا

تو تمہارے سحر میں گم ہوتا چلا گیا 

تمہاری آنکھیں 

تاریکیوں میں جلتے ہوئے دو چراغ ہیں

تم روشنی ہو تمہارا ہنسنا میرا رزق ہے

آسودگی اس کی ہنسی

 آسودگی


اس کی ہنسی 

خشک سالی سے متاثرہ علاقوں 

میں بطور حل سنائی جائے

تو یقیناً

وہاں خوشحالی کا دور دورہ ہو

Saturday, 27 February 2021

کرۂ ارض پر بدحالیوں کا دور دورہ تھا

 اے روحِ ابتسام


کرۂ ارض پر بدحالیوں کا دور دورہ تھا 

خشک سالی اپنے عروج پر تھی 

پھر حیات کے دشت میں تم بارش کے ننھے

قطرے کی مانند نمودار ہو کر خوب برسے

اب ہر سُو آسودگی پھیلی جا چکی ہے

Friday, 26 February 2021

اے نشاط خیز تم ہنستی ہو تو معلوم پڑتا ہے

 یارِ من


اے نشاط خیز! تم ہنستی ہو

تو معلوم پڑتا ہے؛ ہنسی کس قدر خوبصورت شے ہے 

تم آنسو بہاؤ تو جی جلتا ہے

میرا بس نہیں چلتا ان آنسوؤں کا گَلہ گھونٹ دوں


زین اشعر

Thursday, 25 February 2021

قرار من حیرت ہے کہ

قرارِ من

حیرت ہے کہ

تیرے ہوتے ہوئے بھی 

ہم لاچار دید کے واسطے مارے گئے

حبیب من

حیرت زدہ ہوں کہ

Tuesday, 23 February 2021

اے چندر کانت تمہارے انتظار میں

 اے چندر کانت


تمہارے انتظار میں 

دل بے قرار اور 

روح اندھیروں کی لپیٹ میں ہے

آؤ خدارا کہ 

آنکھوں کی دہلیز پر پلکیں کپکپا رہی ہیں

Monday, 11 January 2021

دو جہانوں کا سنگھار جھمکے ہیں

 دو جہانوں کا سنگھار جھمکے ہیں

تیرے کانوں کی شان جھمکے ہیں

جب  لٹکتے ہیں حسین لگتے ہیں 

تیرے ہونٹوں کی آن  جھمکے ہیں

تجھے معلوم ہے ان کی کھنکار ہے

تیرے نینوں کی اٹھان جھمکے ہیں

اور پھر میں نے تیری صورت کو خدا کا حوالہ دیا

 حق الیقین


(پورا پورا یقین)


اور پھر میں نے

تیری صورت کو خدا کا 

حوالہ دیا 

اب مجھے یقین کامل ہے 

Friday, 8 January 2021

متبسم تیری ہنسی زمانے کی

 مُتبسم

مختصر نظم


تیری ہنسی زمانے کی

نایاب ترین دُھنوں میں

شمار ہو گی


زین اشعر

Tuesday, 5 January 2021

آسودگی اس کی ہنسی

 آسودگی


اس کی ہنسی 

خشک سالی سے متاثرہ علاقوں 

میں بطور حل سنائی جائے

تو یقیناً

وہاں خوشحالی کا دور دورہ ہو

جائے 

Saturday, 26 December 2020

میرے ہاتھوں میں اپنا ہاتھ دو

 دستِ نازنیں


میرے ہاتھوں میں اپنا ہاتھ دو تا کہ

مجھے یہ جاننے میں آسانی ہو سکے کہ سکون کا

مؤجب تمہارا لمس ہے


زین اشعر

Friday, 11 December 2020

تمہارے ہونٹ فقط مسکرانے کے لیے تخلیق ہوئے ہیں

 نورِ من


تمہارے ہونٹ فقط مسکرانے

کے لیے تخلیق ہوئے ہیں

ان پر صرف ہنسی جچتی ہے

تمہاری آنکھیں حسن جانچنے کا

آلہ کار ہیں