التماس
تمہیں پتہ ہے
میری بصارتیں پچھلے
تیس گھنٹوں سے بھوکی ہیں
اٹھارہ سو منٹ ہونے کو آئے
میری آنکھوں میں تم نہیں اتری
میری نظروں کی صحنک کو
التماس
تمہیں پتہ ہے
میری بصارتیں پچھلے
تیس گھنٹوں سے بھوکی ہیں
اٹھارہ سو منٹ ہونے کو آئے
میری آنکھوں میں تم نہیں اتری
میری نظروں کی صحنک کو
اے زمانے کے خداؤ
میں تمہارے ہر فیصلے کے خلاف
بغاوت کا علم بلند کرتا ہوں
میں صرف اور صرف محبت کا علم بلند کروں گا
میں ان پُرسان حال لوگوں کا مسیحا بنوں گا
جو پل پل لمحہ لمحہ گُھٹ گُھٹ کر جی رہے ہیں
تلازم
اے بصرِ حیات
تمہارا نظروں سے اوجھل ہونا بہت سی الجھنوں
میں ڈال دینے کے لیے مجھے کافی ہے
تمہارے سامنے رہنے سے ہر منظر پر رونق رہتی ہے
ہر منظر حسین دکھائی دیتا ہے
اے عکسِ نور
میری بے نور رنگت کو اپنے نور کا پیراہن دو
تاکہ میں خود پر تمہیں طاری کر سکوں
اے عکسِ افگن
خدارا مجھ پر اپنے عکس جمال کی اک جھلک ڈالو
تاکہ میرے بے رونق وجود کو تازگی مل سکے
احمرین
گلاب حیرت زدہ ہیں
قوسِ قزح سے شفق رنگ غائب ہو چکا ہے
دھرتی پر موجود سبھی سُرخ تتلیاں جلن
سے بے حال ہیں
یہ سب بھلا کیونکر ہے
بات پتے کی ہے
آپ کا کوئی بھی تعلق اتنا مضبوط ہونا چاہیے کہ
آپ جب چاہیں رابطہ بحال کر سکیں
کوئی مجبوری کوئی دیوار راستے میں حائل نا ہو سکے
کیونکہ انتظار کی کیفیت آپ کے دل کو لمحہ با لمحہ
جھلساتی رہتی ہے
اے محرمِ اسرار
میں نے تمہیں دیکھا
تو تمہارے سحر میں گم ہوتا چلا گیا
تمہاری آنکھیں
تاریکیوں میں جلتے ہوئے دو چراغ ہیں
تم روشنی ہو تمہارا ہنسنا میرا رزق ہے
آسودگی
اس کی ہنسی
خشک سالی سے متاثرہ علاقوں
میں بطور حل سنائی جائے
تو یقیناً
وہاں خوشحالی کا دور دورہ ہو
اے روحِ ابتسام
کرۂ ارض پر بدحالیوں کا دور دورہ تھا
خشک سالی اپنے عروج پر تھی
پھر حیات کے دشت میں تم بارش کے ننھے
قطرے کی مانند نمودار ہو کر خوب برسے
اب ہر سُو آسودگی پھیلی جا چکی ہے
یارِ من
اے نشاط خیز! تم ہنستی ہو
تو معلوم پڑتا ہے؛ ہنسی کس قدر خوبصورت شے ہے
تم آنسو بہاؤ تو جی جلتا ہے
میرا بس نہیں چلتا ان آنسوؤں کا گَلہ گھونٹ دوں
زین اشعر
قرارِ من
حیرت ہے کہ
تیرے ہوتے ہوئے بھی
ہم لاچار دید کے واسطے مارے گئے
حبیب من
حیرت زدہ ہوں کہ
اے چندر کانت
تمہارے انتظار میں
دل بے قرار اور
روح اندھیروں کی لپیٹ میں ہے
آؤ خدارا کہ
آنکھوں کی دہلیز پر پلکیں کپکپا رہی ہیں
دو جہانوں کا سنگھار جھمکے ہیں
تیرے کانوں کی شان جھمکے ہیں
جب لٹکتے ہیں حسین لگتے ہیں
تیرے ہونٹوں کی آن جھمکے ہیں
تجھے معلوم ہے ان کی کھنکار ہے
تیرے نینوں کی اٹھان جھمکے ہیں
حق الیقین
(پورا پورا یقین)
اور پھر میں نے
تیری صورت کو خدا کا
حوالہ دیا
اب مجھے یقین کامل ہے
مُتبسم
مختصر نظم
تیری ہنسی زمانے کی
نایاب ترین دُھنوں میں
شمار ہو گی
زین اشعر
آسودگی
اس کی ہنسی
خشک سالی سے متاثرہ علاقوں
میں بطور حل سنائی جائے
تو یقیناً
وہاں خوشحالی کا دور دورہ ہو
جائے
دستِ نازنیں
میرے ہاتھوں میں اپنا ہاتھ دو تا کہ
مجھے یہ جاننے میں آسانی ہو سکے کہ سکون کا
مؤجب تمہارا لمس ہے
زین اشعر
نورِ من
تمہارے ہونٹ فقط مسکرانے
کے لیے تخلیق ہوئے ہیں
ان پر صرف ہنسی جچتی ہے
تمہاری آنکھیں حسن جانچنے کا
آلہ کار ہیں