تم تھے، اب نہیں ہو
مکڑی کے جالوں کے اس پار
دیکھنے والی تمہاری آنکھیں بینائی سے محروم ہوں گی
اور بھیڑیے ہوں گے
بھیڑیے کے ہاتھوں میں تمہارے لیے
کمزور بوسیدہ لکڑی سے بنے کافن ہوں گے
جنگل میں دور تک خون پھیلا ہو گا
تم تھے، اب نہیں ہو
مکڑی کے جالوں کے اس پار
دیکھنے والی تمہاری آنکھیں بینائی سے محروم ہوں گی
اور بھیڑیے ہوں گے
بھیڑیے کے ہاتھوں میں تمہارے لیے
کمزور بوسیدہ لکڑی سے بنے کافن ہوں گے
جنگل میں دور تک خون پھیلا ہو گا
حاشیے پر
باہر گونجتی آوازوں میں
دہشتگردی کے نام پر ایک مکمل نسل
نفرت کے کٹہرے میں کھڑی ہے
ٹی وی چینلز پر صرف ایک عارف نہیں ہوتا
ایک پوری قوم ہوتی ہے
سہمی ہوئی ۲۴ گھنٹے
ذرا دور چلنے کی حسرت رہی ہے
محبت ہی صرف زندگی تو نہیں ہے
کہ تم سے الگ بھی محبت رہی ہے
خوشی کے لیے گھر ہی کافی نہیں ہے
کہ گھر سے الگ کی بھی چاہت رہی ہے
ذرا دُور چلنے کی حسرت رہی ہے
میں ویرانیوں کی اداسی کی تنہائیوں کی پسند ہوں
ہتھیلیاں جدا کر دی گئی ہیں
( وائرس کے دنوں میں ایک نظم )
ہتھیلیاں جدا کر دی گئی ہیں
وائرس کے اندھیروں میں
سورج شہر خموشاں میں
چھپنے کی تیاری کر رہا ہے