Showing posts with label تبسم فاطمہ. Show all posts
Showing posts with label تبسم فاطمہ. Show all posts

Friday, 26 April 2024

تم تھے اب نہیں ہو تم نہیں ہو گے

 تم تھے، اب نہیں ہو


مکڑی کے جالوں کے اس پار

دیکھنے والی تمہاری آنکھیں بینائی سے محروم ہوں گی

اور بھیڑیے ہوں گے

بھیڑیے کے ہاتھوں میں تمہارے لیے

کمزور بوسیدہ لکڑی سے بنے کافن ہوں گے

جنگل میں دور تک خون پھیلا ہو گا

Wednesday, 13 December 2023

باہر گونجتی آوازوں میں دہشتگردی کے نام پر

 حاشیے پر

‍

باہر گونجتی آوازوں میں

دہشتگردی کے نام پر ایک مکمل نسل

نفرت کے کٹہرے میں کھڑی ہے

ٹی وی چینلز پر صرف ایک عارف نہیں ہوتا

ایک پوری قوم ہوتی ہے

سہمی ہوئی ۲۴ گھنٹے 

Saturday, 9 December 2023

ذرا دور چلنے کی حسرت رہی ہے

 ذرا دور چلنے کی حسرت رہی ہے

محبت ہی صرف زندگی تو نہیں ہے

کہ تم سے الگ بھی محبت رہی ہے

خوشی کے لیے گھر ہی کافی نہیں ہے

کہ گھر سے الگ کی بھی چاہت رہی ہے

ذرا دُور چلنے کی حسرت رہی ہے


میں ویرانیوں کی اداسی کی تنہائیوں کی پسند ہوں

Tuesday, 1 February 2022

ہتھیلیاں جدا کر دی گئی ہیں وائرس کے اندھیروں میں

 ہتھیلیاں جدا کر دی گئی ہیں

( وائرس کے دنوں میں ایک نظم )


ہتھیلیاں جدا کر دی گئی ہیں

وائرس کے اندھیروں میں

سورج شہر خموشاں میں 

چھپنے کی تیاری کر رہا ہے